مٹیاری میں ریجنل ڈائریکٹر محتسب کی کھلی کچہری، زیرِ التواء درخواستیں حل، کوئی نئی شکایت سامنے نہ آئی

مٹیاری (رپورٹ:امجد راجپوت)صوبائی محتسبِ اعلیٰ سندھ محمد سہیل راجپوت (ستارۂ امتیاز) کی ہدایت پر ریجنل ڈائریکٹر (محتسب) سید محمد سجاد حیدر کی جانب سے ضلع اکاؤنٹس آفس مٹیاری میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد عوامی مسائل سننا اور ان کے فوری حل کو یقینی بنانا تھا۔

کھلی کچہری کے دوران ریجنل ڈائریکٹر محتسب حیدرآباد سید محمد سجاد حیدر خود عوامی مسائل سننے کے لیے موجود رہے۔ تاہم مقررہ وقت کے دوران کسی بھی شہری کی جانب سے کوئی نئی شکایت یا کیس پیش نہیں کیا گیا۔

اس موقع پر انتظامیہ نے بتایا کہ پہلے سے زیرِ التواء تمام مسائل اور درخواستوں کو متعلقہ محکموں کی جانب سے حل کر دیا گیا ہے، جس کے باعث آج کی کھلی کچہری میں کوئی نیا معاملہ سامنے نہیں آیا۔ حکام کے مطابق بروقت اقدامات اور مؤثر رابطہ کاری کے نتیجے میں عوامی شکایات کا ازالہ پہلے ہی ممکن بنایا جا چکا ہے۔

ریجنل ڈائریکٹر محتسب حیدرآباد سید محمد  سجاد حیدر نے اس موقع پر کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر فوری انصاف فراہم کرنا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات سے عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بحال ہوتا ہے اور شکایات کے بروقت حل سے مسائل بڑھنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ بھی عوامی خدمت اور شفاف نظام کے فروغ کے لیے کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

کھلی کچہری میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر فرزانہ کلثوم پٹھان، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر محمد عثمان شیخ، اکاؤنٹنٹ سرفراز مگسی، ایڈمن آفیسر سید عرفان شاہ، سینئر آڈیٹر فیصل پنہور سمیت دیگر افسران اور عملے نے شرکت کی۔

اس موقع پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر محمد عثمان شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ کے تمام اضلاع میں چیک سسٹم ختم کر دیا گیا ہے اور اب سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ان کی ادائیگیاں براہِ راست NPG سسٹم کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید نظام کے باعث ادائیگیوں سے متعلق شکایات تقریباً ختم ہو چکی ہیں اور اب اکاؤنٹس آفس میں اس نوعیت کے مسائل بہت کم سامنے آ رہے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button