کچے کے بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کا مستقبل بہتر بنایا جا سکے، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی

گھوٹکی (رپورٹ: وجے کمار چاولہ)ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی نے کہا ہے کہ کچے کے علاقے میں مستقل بنیادوں پر امن کے قیام کے لیے تعلیم کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کچے کے بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کا مستقبل بہتر بنایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں منعقدہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرز سمیت پاک آرمی، کسٹمز، پولیس، نارکوٹکس، پرائس اینڈ کنٹرول، محکمہ تعلیم کے افسران اور حساس اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کچے جیسے علاقے میں درختوں کی عدم موجودگی ایک المیہ ہے، جبکہ تعلیم کی کمی کے باعث قبائلی تنازعات جنم لیتے ہیں جو بعد میں جرائم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ کچے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تعلیم کا فروغ ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ نے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو بھی سفارشات ارسال کی ہیں۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ کچے کے بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے، جس کے لیے ابتدائی طور پر ایک اسکول کے قیام کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے تمام ادارے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے محکمہ جنگلات کے افسران کو ہدایت کی کہ بہار کی شجرکاری مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے اور 10 لاکھ درخت لگانے کا ہدف جلد مکمل کیا جائے، جبکہ کچے کے جنگلات کی بحالی کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ قبل ازیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تنویر احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں 8 غیر قانونی پیٹرول پمپس سیل کر کے 2 لاکھ 28 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا گیا ہے۔ اسی طرح حفاظتی اقدامات نہ کرنے والے ایل پی جی دکانوں پر ایک لاکھ 63 ہزار روپے جرمانہ عائد کر کے انہیں وارننگ جاری کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع میں 261 مدارس رجسٹرڈ جبکہ 9 غیر رجسٹرڈ ہیں



