منشیات فروشوں کیخلاف عدم کارروائی،سنگین دھمکیاں،سریندرولاسائی کے استعفے کی وجہ سامنے آگئی

ارباب لطف اللہ نے خود پر عائد تمام الزامات کو مسترد کر دیا

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)سریندر ولاسائی کے بلاول ہاؤس میڈیا سیل کے انچارج کے عہدے سے استعفی دینے کے پیچھے اصل وجوہات سامنے آگئیں۔

بلاول ہاؤس میڈیا سیل کے انچارج رکن سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی نے میڈیا سیل سے استعفی دے دیا۔انہوں نے استعفیٰ میں تو وجہ اپنی صحت کو قرار دیا مگر پس پردہ حقائق کچھ اور ہیں اور زیادہ سنگین ہیں۔ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ تھر پارکر سے پیپلز پارٹی کے ہی ایم پی اے ارباب لطف اللہ کے بھائی ارباب عالم سریندر ولاسائی کو مسلسل دھمکیاں دے رہے تھے جس کے خلاف انہوں نے پارٹی قیادت،وزیر اعلیٰ اور دیگر حکام کو آگاہ کیا۔

تھر پارکر سے پیپلز پارٹی کے ہی ایم پی اے ارباب لطف اللہ کے بھائی ارباب عالم سریندر ولاسائی کو مسلسل دھمکیاں دے رہے تھے

دھمکیوں کی وجہ ذرائع یہ بتا رہے ہیں کہ سریندر ولاسائی نے تھر پارکر اور عمرکوٹ میں منشیات فروشوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد،یہاں تک کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں خواتین کی رقم سے زبردستی کٹوتی کرنے والوں کے خلاف متعلق اداروں کو شکایات کیں۔آئی جی پولیس اور ایف آئی اے تک کو درخواستیں بھیجیں مگر کسی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔انہوں نے ارباب لطف اللہ کے بھائی ارباب عالم پر علاقے میں منشیات فروشوں کی سرپرستی کے الزامات لگائے۔

ڈیپلو اور کولائی پولیس تھانے بھی ارباب لطف اللہ کے نجی لوگوں کے ذریعے چلانے کا الزام

ڈیپلو اور کولائی پولیس تھانے بھی ارباب لطف اللہ کے نجی لوگوں کے ذریعے چلانے اور ارباب لطف اللہ کی اوطاق پر ٹارچر سیل ہونے کا بھی سریندر ولاسائی نے الزام عائد کیا۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ارباب لطف اللہ وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار کے قریبی دوست ہیں اس لئے پولیس غیرقانونی کاموں میں ملوث ان کے لوگوں لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی سریندر ولاسائی کے متعلق ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ارباب عالم کے ساتھیوں پر ان کے ماموں ہرجی مل کے گھر پر قبضہ کرنے کا بھی الزام لگایا ۔۔ مگر کوئی شنوائی نہ ہونے پر انہوں نے احتجاجاً بلاول ہاؤس کے میڈیا سیل کے انچارج کے عہدے سے استعفی دے دیا۔

ارباب لطف اللہ نے خود پر عائد تمام الزامات کو مسترد کر دیا

جانوڈاٹ پی کے کی جانب  سے ارباب لطف اللہ نے خود پر عائد تمام الزامات کو مسترد کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی سریندر ولاسائی نے پریس کانفرنس میں الزامات عائد کئے تھے مگر کیوں کہ پارٹی کا حصہ ہونے کی وجہ سے میں نے میڈیا میں جواب دینے کےبجائے پارٹی کے اندر شکایت کی تھی۔ارباب لطف اللہ نے کہا کہ اب بھی پارٹی قیادت سے درخواست کروں گا کہ وہ اس معاملے پر خود انکوائری کرے اگر الزامات ثابت ہوں تو میں ذمہ دار ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ مقامی برادریوں کے باہنی تنازعات کو مجھ سے اور میرے بھائی سے جوڑا جا رہا ہے جو سراسر غلط ہے۔ منشیات فروشوں کا جرائم پیشہ لوگوں کی کبھی سرپرستی نہیں کی بلکہ ان کے خلاف پولیس کے ذریعے کئی بار کارروائیاں کروائی ہیں۔

 

مزید خبریں

Back to top button