کارونجھر بچاؤ تحریک،احتجاجی بھوک ہڑتال چوتھے مہینے میں داخل، عوام اور کارکن سراپا احتجاج

تھرپارکر (رپورٹ : میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) کارونجھر سجاڳ تحریک کی جانب سے کارونجھر کو بچانے، اسے قومی ورثہ قرار دینے اور ورلڈ ہیریٹیج میں شامل کرانے کے لیے جاری احتجاجی بھوک ہڑتال چوتھے مہینے میں داخل ہوگئی ہے۔نگرپارکر کے عوام اور کارونجھر سجاڳ تحریک کے کارکن اور رہنما سراپا احتجاج ہیں۔

کارونجھر ایک قدیم تاریخی اثاثہ ہے اور نگرپارکر کے عوام کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ ایک تاریخی اور مقدس عبادت گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ سندھ کا خوبصورت زیور اور رن کچھ بارڈر پر ایک بڑی حفاظتی دیوار کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔

کارونجھر کے اندر قدیم تاریخی عبادت گاہیں موجود ہیں جبکہ یہ پہاڑ مویشیوں، پرندوں اور پارکر کے لوگوں کے لیے ایک بڑا سہارا ہے۔

کارونجھر سجاڳ تحریک کے رہنما اور کارکن اپنی احتجاجی تحریک کو جاری رکھتے ہوئے چوتھے مہینے میں داخل ہو چکے ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران احتجاجی کیمپ میں جذباتی اور منظم مناظر دیکھنے میں آئے۔

اس موقع پر رہنماؤں اللہ رکھيو کوسو، مصطفیٰ دل، شنکر لال، نواز کوسو، سروپ چند اور کارو کولہی سمیت دیگر کارکنوں نے کارونجھر بچانے کے حق میں زبردست نعرے بازی بھی کی۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہمارے حوصلے بلند ہیں، ہم روپلی کولہی اور مسکین جہان کوسو کی دھرتی کے وارث ہیں اور اس مقدس پہاڑ کے ایک ایک انچ کی حفاظت کریں گے، کسی کو بھی یہاں کھدائی کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چاہے نگرپارکر کے منتخب نمائندے ہمارا ساتھ نہ دیں، ہم پارکر اور سندھ کے عوام کارونجھر کے سپاہی ہیں اور اپنا مقدمہ پرامن احتجاج کے ذریعے خود لڑ رہے ہیں۔ ہم پرامن جدوجہد کے ذریعے عوامی طاقت سے کامیابی حاصل کریں گے۔

انہوں نے سندھ حکومت سے ایک بار پھر اپیل کی کہ اپنی دائر کردہ پٹیشن واپس لے اور ہائی کورٹ کے تاریخی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کارونجھر کو قومی ورثہ قرار دینے کا اعلان کرے۔

مزید خبریں

Back to top button