روزمرہ کی 6 عادات جو خاموشی سے دماغ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں

لندن(جانوڈاٹ پی کے)ہمارا دماغ ایسا پیچیدہ عضو ہے جو سوچنے، یادداشت، جذبات، لمس، بینائی، سانس لینے، درجہ حرارت، بھوک اور لگ بھگ جسم کے ہر چیز کو کنٹرول کرتا ہے۔

اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم دماغ کو صحت مند رکھنے کی کوشش کریں۔

مگر بیشتر افراد چند ایسی عادات کو روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں جو طویل المعیاد بنیادوں پر دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔

بظاہر یہ عادات بے ضرر نظر آتی ہیں مگر ان سے خاموشی سے دماغ کو نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔

6 گھنٹے سے کم وقت تک سونا

طبی ماہرین کے مطابق ہر رات کم از کم 7 سے 8 گھنٹے کی نیند دماغ کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔

مگر جب آپ روزانہ 6 گھنٹے سے کم وقت تک سونا عادت بنا لیتے ہیں تو یادداشت متاثر ہوتی ہے، ردعمل کا وقت سست ہو جاتا ہے جبکہ فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

روزانہ 8 سے 10 گھنٹے بیٹھ کر گزارنا

زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا صرف جسم کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ اس سے دماغ بھی متاثر ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق روزانہ 8 سے 10 گھنٹے بیٹ کر گزارنے سے دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھتا ہے۔

رات کو اسکرینوں کے سامنے زیادہ گزارنا

ماہرین کے مطابق رات کے وقت اسکرین پر اسکرولنگ کرنا بظاہر بے ضرر محسوس ہوتا ہے مگر اس سے بھی دماغ کو نقصان پہنچتا ہے۔

بے مقصد اسکرلنگ سے نیند میں مدد فراہم کرنے والے ہارمون میلاٹونین کی سطح متاثر ہوتی ہے جس سے نیند کا معیار گھٹ جاتا ہے۔

ورزش نہ کرنا

اگر آپ جسمانی سرگرمیوں یا ورزش کرنا پسند نہیں کرتے تو اس سے دماغی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔

جسمانی سرگرمیوں سے دماغی لچک بڑھتی ہے جو کہ سیکھنے اور یادداشت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

بلڈ پریشر یا بلڈ شوگر کو کنٹرول نہ کرنا

اگر آپ بلڈ پریشر یا بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول میں نہیں رکھتے تو اس سے دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر سے فالج کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ دماغ کی چھوٹی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

دائمی تناؤ

دائمی تناؤ سے بھی دماغ متاثر ہوتا ہے اس سے دماغی حجم گھٹ جاتا ہے۔

خراٹوں کو نظر انداز کرنا

نیند کے دوران خراٹے لیتے ہیں تو اسے کبھی نظر انداز مت کریں۔

یہ سلیپ اپنیا نامی عارضہ ہوسکتا ہے جس سے دماغی افعال متاثر ہوتے ہیں جبکہ فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button