پاکستان سمیت 6 ممالک پر مکمل ویزا پابندی کی تجویز

لندن (ویب ڈیسک) برطانیہ میں غیر قانونی تارکینِ وطن اور مجرمان کی واپسی کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے نائیجل فریج کی جماعت ریفارم یوکے نے پاکستان سمیت ان ممالک پر مکمل ویزا پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے جو اپنے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کرتے ہیں۔
ریفارم یوکے کے نئے شیڈو ہوم سیکرٹری ضیا یوسف کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ پاکستان، صومالیہ، اریٹیریا، شام، افغانستان اور سوڈان کے سفارت کاروں، وی آئی پیز، کارکنوں، طلباء اور سیاحوں پر ویزا پابندی لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان گزشتہ برس 1 لاکھ 60 ہزار سے زائد ویزوں کے ساتھ فہرست میں سرفہرست رہا، تاہم پناہ کی درخواست مسترد ہونے والے افراد میں سے صرف 7 فیصد کو ہی واپس لیا گیا۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ راچڈل گرومنگ گینگ کے ملزمان کو بھی پاکستان کی جانب سے واپس لینے سے انکار کیا گیا، جنہیں 2012 میں درجنوں لڑکیوں سے جنسی زیادتی کے جرم میں قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔
یہ مجوزہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 75 ممالک پر ویزا پابندی کے فیصلے سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ضیا یوسف کے مطابق یورپی یونین کے ساتھ بریگزٹ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کا امکان بھی خارج از امکان نہیں۔
دوسری جانب یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ نمیبیا، انگولا اور ڈی آر کانگو نے برطانوی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود کی جانب سے ٹرمپ طرز کی ویزا پابندیوں کی دھمکی کے بعد ہزاروں جلاوطن مجرموں اور غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق برطانیہ میں نئی قانون سازی کی تیاری بھی جاری ہے، جس کا مقصد ملک بدری کے فیصلوں میں ججز کی مداخلت روکنا بتایا جا رہا ہے۔



