پی پی ایچ آئی میں ملازم خواتین کو مبینہ جنسی ہراسانی کرنے کا الزام، 10 ملازمین فارغ

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی /جانوڈاٹ پی کے) پی پی ایچ آئی تھرپارکر کے اہم عہدوں پر تعینات افسران کی جانب سے ملازم خواتین کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ کرنے اور بلیک میلنگ میں نہ آنے والی 10 سے زائد باعزت خواتین کو ملازمت سے فارغ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
پی پی ایچ آئی تھرپارکر سے مبینہ جنسی ہراسانی کے بعد مختلف اوقات میں ملازمت سے برطرف کی گئی خواتین کے ساتھ افسران کے نازیبا رویّوں کا معاملہ سوشل میڈیا پر زور شور سے وائرل ہوگیا ہے۔
پی پی ایچ آئی کے ڈی ایم صوبدار شاہانی، ایم او ڈاکٹر سنیل چوہان اور دیگر پر متاثرہ خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جن سے متعلق مبینہ آڈیوز بھی منظرِ عام پر آگئی ہیں۔
متاثرہ ملازم خواتین نے وائس میسجز کے ذریعے ڈی ایم صوبدار شاہانی، ڈاکٹر سنیل چوہان اور دیگر افسران کے مبینہ اقدامات کے راز فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کچھ خواتین کے الزام والے آڈیوز وائرل بھی ہوچکے ہیں۔
پی پی ایچ آئی تھرپارکر سے مبینہ جنسی ہراسانی کے بعد مختلف جھوٹے الزامات کے تحت ملازمت سے نکالی گئی خواتین میں نصرت، شمع، مزمل، نادیہ، مومل، ڈاکٹر بشیلا، بسمہ سگھران اور دیگر شامل ہیں۔
پی پی ایچ آئی میں کئی خواتین ملازمین نے بلیک میلنگ کے لیے دور دراز دیہات میں تبادلے کرکے دربدر کرنے کی بھی شکایات کی ہیں۔
تھر کے منتخب نمائندوں اور سول سوسائٹی نے الزامات کا سامنا کرنے والے پی پی ایچ آئی افسران کے خلاف شفاف تحقیقات کراکے متاثرہ خواتین کو انصاف فراہم کرنے اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سول سوسائٹی کے سوشل میڈیا پر جاری بیان کے مطابق پی پی ایچ آئی تھرپارکر کے اہم عہدوں پر تعینات مخصوص گروہ پر مبینہ طور پر ہراسانی نیٹ ورک چلانے کا الزام ہے، اور آر ایس یو اسلام کوٹ میں تعینات سرکاری ڈاکٹر سنیل چوہان کو خصوصی طور پر مٹھی ہیڈ آفس میں تعینات کرکے اس نیٹ ورک کا سربراہ بنانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
سول سوسائٹی رہنماؤں نے کہا ہے کہ تھر کی خواتین کے ساتھ ایسی زیادتیوں پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
سول سوسائٹی کا مطالبہ ہے کہ الزامات کا سامنا کرنے والے پی پی ایچ آئی کے ڈی ایم صوبدار شاہانی اور ایم او ڈاکٹر سنیل کو عہدوں سے ہٹا کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
پی پی پی کے ایم پی اے ارباب لطف اللہ، بلاول ہاؤس کے ترجمان، اقلیتی ایم پی اے سریندر ولاسائی، سینیٹر پونجو مل بھیل اور دیگر منتخب نمائندوں نے بھی متعلقہ افسران کو ہٹا کر شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔



