شاہ چارلس کو 2019 میں ہی پرنس اینڈریو کی خفیہ ڈیلز سے آگاہ کر دیا گیا تھا،ایپسٹین فائلز کا نیا انکشاف

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بدنامِ زمانہ امریکی شہری جیفری ایپسٹین سے متعلق جاری دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ شاہ چارلس سوم کو اپنے بھائی پرنس اینڈریو کی مبینہ خفیہ ڈیلز اور شاہی نام کے غلط استعمال کے بارے میں 2019 ہی میں خبردار کر دیا گیا تھا۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق دستاویزات میں یہ بھی درج ہے کہ شاہ چارلس کو آگاہ کیا گیا تھا کہ پرنس اینڈریو کم سن بچوں سے جنسی جرائم کے الزامات میں گھِرے ایپسٹین سے منسلک معاملات کے باعث شاہی خاندان کے وقار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق شاہی محل کو یہ اطلاع بھی دی گئی کہ اینڈریو شاہی اثر و رسوخ کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

دستاویزات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ شاہی محل کو خفیہ طور پر بتایا گیا تھا کہ سابق ڈیوک اینڈریو نے متنازعہ ارب پتی ڈیوڈ رولینڈ کے ساتھ پوشیدہ مالیاتی تعلق قائم کیا ہوا ہے، جسے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چند روز قبل برطانوی پولیس نے ایپسٹین سے مبینہ تعلقات کے تناظر میں پرنس اینڈریو سے تفتیش کی، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔ سرکاری سطح پر ان دعوؤں پر تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ ایپسٹین فائلز تاحال مکمل طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق سابق امریکی صدر ٹرمپ کی حمایتی امریکی اٹارنی جنرل پامیلا بونڈائی پر الزام ہے کہ پارلیمان کی ہدایات کے باوجود فائلز کے اجرا میں تاخیری حربے اختیار کیے گئے۔ ان سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ اگر فائلز میں شامل تمام افراد سے تفتیش کی گئی تو پورا نظام ہل کر رہ جائے گا۔

ایپسٹین فائلز میں مبینہ طور پر کم سن بچوں اور بچیوں کے ساتھ بااثر اور مالدار افراد کی جنسی درندگی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جن کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ مغربی اشرافیہ کے خلاف تصویری اور ویڈیو شواہد کے باوجود اب تک کوئی جامع اور قابلِ ذکر کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔

مزید خبریں

Back to top button