سندھ اسمبلی نے صوبہ سندھ کی تقسیم کیخلاف قرارداد منظور کر لی، اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)سندھ اسمبلی میں صوبہ سندھ کو تقسیم کرنے کے خلاف قرار داد منظور کر لی گئی  جس کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر1973کا آئین ہوتا تو 1948 والی بات نہیں ہوتی ، 2019میں بھی سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر قراداد منظور کی تھی ، اس وقت متحدہ قومی موومنٹ نے حمایت کی تھی، 2016میں ایم کیو ایم نے اپنے لیڈر کو نکال دیا تھا ، یہ قراداد سادہ ہےکہ ہم سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ قراداد میں گورنر سندھ کا نام نہیں ہے، رولزمیں ہے کہ گورنر اور صدر کی ذاتیات پر بات نہیں کی جاسکتی ہے ، میری قراداد میں گورنر کا نام نہیں ہے، یہ بات ہوئی ہے کہ سندھ کو تقسیم کیا جائے یہ قراداد اس کےخلاف ہے ، 2019میں ایم کیو ایم نے سندھ کی تقسیم کے خلاف قراداد کی حمایت کی تھی۔

آج حمایت نہیں کر رہے تو مطلب دال میں کالا ہے، انہوں نے اپنے لیڈر کو چھوڑنے والا قصہ بتایا ہے، قراداد کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی بھی مذمت شامل ہے ، قراداد میں وفاق کو مضبوط کرنے کی بات کی ہے، قراردادمیں گورنرسےمتعلق کوئی بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ قراداد میں نے پیش کی ہے، اس قراردادمیں ایک بات بھی آئین کی خلاف نہیں، جولوگ سندھ کی تقسیم چاہتےہیں وہ اس قرارداد کی مخالفت کریں، آج جولوگ ایوان میں موجودہیں وہ سندھ کی تقسیم کی مخالفت کررہےہیں،جب ہم اپوزیشن میں ہوتےتھی توہماری ایک قرارداد نہیں آتی تھی۔

شرجیل میمن

 شرجیل میمن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پولیس والوں کو چن چن کر قتل کیا، یہ سب جی بھائی جی بھائی کرتے تھے، پاکستان کو بنانے والا صوبہ سندھ ہے، پاکستان پرآنچ آنےنہیں دینگے،تاقیامت پاکستان کھپے کا نعرہ لگائیں گے ،نفرتوں کی یہ سیاست کرتے ہیں۔

شرجیل انعام میمن کی تقریر پر ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے شور شرابہ کیا ۔ شرجیل میمن کا کہناتھا کہ مئیر کراچی،مئیرحیدر آباد اور مئیر سکھر کام کر رہے ہیں، ان کو کیا خوف تھا بلدیاتی انتخابات سے کیوں بھاگے؟، دم دبا کربلدیاتی انتخابات سے بھاگے،کراچی پاکستان کا بہترین شہر ہے، کراچی میں پاکستان بھر سے لوگ علاج کےلئے آتے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی تا قیامت وفاق کے حوالے نہیں ہوگا، مشرف دورمیں جب ان کا مئیر تھا تو کراچی وفاق کے حوالے تھا ، کراچی کو انہوں نے چائنہ کٹنگ دی،

ان کا کہناتھا کہ آج مان لیا ہےکہ یہ فارم 47 کے ہیں،اگر فارم 47 پر نا آتے تو یہ قرارداد کی حمایت کرتے،سندھ کے لوگ بہت باشعور ہیں،صحیح لوگوں کو چن کراسمبلی میں بھیجا۔

اپوزیشن لیڈر علی خورشید

اپوزیشن لیڈر علی خورشید نے کہا کہ ہم اس قرارداد کو مسترد کرتے ہیں، ایسے لگ رہا ہے کہ ڈکٹیٹشن چل رہی ہے،قرارداد میں لکھا ہے کہ سازش کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کون سی سازش ہو رہی ہے،کراچی سندھ کادارالخلافہ ہے،تم نے کراچی کو پہلے توڑ دیا، تم نے ملیر کو توڑ کر کورنگی بنایا، اٹھارہ،اٹھارہ سال کا اقتدار لے کر بیٹھے ہیں، گورنر کےآئی ٹی پروگرام میں 50 ہزار بچے ہیں ، گورنر ہاؤس میں کراچی کے مستقبل میں بات ہو رہی تھی ۔

علی خورشیدی نے کہا کہ سندھی بولنے والا افسر بھی بتاتا ہے کہ کراچی تباہ ہوگیا، آج ایسے لگ رہا ہے کہ قوم پرست جماعت ہے،میرے لئے دھرتی ماں پاکستان ہے۔

مزید خبریں

Back to top button