عمران خان اور ویون رچرڈز میں کیا فرق ہے؟

سرویون رچرڈ نے اپنی بیٹی کو اپنایا،عمران خان نے اپنی بیٹی کو مسترد کردیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)1988میں ویوین رچرڈز کا بالی وڈ اداکارہ نینا گپتا سے معاشقہ چلااور1989میں نینا گپتا نے شادی کے بغیر ویوین رچرڈز کی بیٹی مسابا گپتا کو جنم دیا

نینا گپتا نے بیٹی کو جنم دینے کے بعد ویوین کو کال کی اور پوچھا تم دنیا کرکٹ میں عظیم مانے جاتے ہو تمھارا بہت بڑا نام ہے تمھارا کیرئیر ہے تم شادی شدہ ہو، اگر اس بچی کی ولدیت کے خانے میں تمھارا نام لکھتی ہوں تو تم بدنام ہوجاؤگے تمہاری شادی شدہ زندگی بھی ختم ہو سکتی ہے اگر تم چاہو تو میں اس بچی کو بےنام رہنے دیتی ہوں

ویوین رچرڈز نے جواب دیا وہ عظمت کیا واقعی عظمت ہو گی کہ دنیا کہ کسی کونے میں میری بیٹی بےنام پلے،اور مجھے بزدل کے طور پر یاد رکھے ایک مرد اگر معاشقے کی ہمت رکھتا ہے تو اپنے افعال کی زمےداری لینے کی بھی ہمت رکھے،چنانچہ نینا گپتا نے ولدیت کے خانے میں مسابا گپتا فادر نیم ویوین رچرڈز لکھا اور یہ برتھ سرٹیفکیٹ عالمی اخبارات میں شائع ہو گیا،میڈیا میں ویوین کا بہت نام اچھلا لیکن ویوین رچرڈز نے ماتھے پر شکن لائے بغیر سرے عام قبول کیا کہ ہاں مسابا میری بیٹی ہے

مسابا نینا گپتا کے پاس پلی نینا گپتا نے آگے شادی کر لی مسابا چھٹیوں میں ویوین رچرڈز سے ملنے جاتی اور وہ مسابا سے ملنے بھارت آتا،نینا گپتا کہتی ہیں ویون رچرڈز دل کا کالا نا تھا-

اب بات کرتے ہیں دنیا کرکٹ کے ایک اور عظیم کرکٹرکی۔عمران خان اور سیتا وائٹ کی ملاقات1987میں ہوئی اس وقت عمران خان ٹیم میں سٹرگلنگ کھلاڑی تھے جن کا کرکٹ میں اس وقت تک کوئی خاص نام نا تھا۔عمران خان کا سیتا وائٹ سے تعلق تقریباً 6سال تک جاری رہا۔اس معاشقے کو ایک مضبوط تعلق بنانے کیلئے دونوں نے1991میں بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ایک سال بعد جون1992میں سیتا وائٹ نے عمران خان کی بیٹی ٹیرین جیڈ وائٹ(Tyrian Jade White) کو لاس اینجلس کے سیڈرز سینیائی میڈیکل سینٹر میں جنم دیا۔

اس بچی کی پیدائش سے دو ماہ قبل عمران خان پاکستان کرکٹ ٹیم کا کپتان بنااور پھر25مارچ1992کا ورلڈکپ بھی جیت گیا،سیتا وائیٹ نے جب جون میں اپنی بیٹی کی پیدائش کے بعد عمران خان سے اپنی بیٹی کو اپنانے،اسے اپنا نام دینے کی درخواست کی تو عمران خان نے اپنے کیریئر کا حوالہ دیتے،خود کو عظیم کرکٹر بتاتے اور دو ماہ قبل 25مارچ1992 کے ورلڈکپ جیتنے کا حوالہ دیتے ہوے عوامی سطح پر ٹیرین کو اپنی بیٹی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

سیتا وائیٹ تمام تر ثبوتوں کے ساتھ عدالت جا پہنچی سیتا وائٹ نے بیٹی کو باپ کا نام دلوانے کیلئے اپنی تمام تر توانائی جھونک دی اور طویل قانونی جنگ لڑی،بالآخر1997میں لاس اینجلس کی عدالت نے فیصلہ دیا کہ عمران خان ہی ٹیرین کے والد ہیں۔لیکن عمران خان نے پھر بھی اسے عوامی سطح پر قبول نا کیا۔

سیتا وائٹ کی موت کے بعد ٹیریان آج عمران خان کے بچوں کے ساتھ انکی سابقہ بیوی کے پاس رہتی ہے۔Image

مزید خبریں

Back to top button