عرب شیوخ، خفیہ ملاقاتیں، اور ایپسٹین فائلز کا نیا طوفان

نہال ممتاز
جیفری ایپسٹین کے کالے کارناموں کے طومار اب ایک ایسے طوفان کی صورت اختیار کر چکے ہیں جس نے مغرب کے ایوانوں سے نکل کر مشرقِ وسطیٰ کے صحراؤں میں بچھے ریشمی قالینوں کے بخیے ادھیڑنا شروع کر دئیے ہیں۔ یہ محض ایک جنسی سکینڈل نہیں، بلکہ اقتدار، پیسے اور اخلاقی پستی کی وہ داستان ہے جس میں کعبہ کے مقدس غلاف ’کسوہ‘ کا ذکر کسی ڈراؤنے خواب کی طرح ابھرا ہے۔
جب کعبہ کے غلاف جیسی مقدس چیز ایک ایسے شخص کے بیڈروم سے ملے جس کا نام دنیا کے غلیظ ترین جرائم میں ہو، تو کہانی خود بخود سنسنی خیز ہو جاتی ہے۔
پھر جب اس کی سیاہ ڈائری کھلے اور اس میں شہزادہ ترکی بن فیصل، یوسف العتیبہ اور شہزادہ غزالان جیسے نام نظر آئیں، تو دنیا کا ماتھا ٹھنکنا لازمی ہے۔
دستاویزات کے مطابق، ان شخصیات کے نام ایپسٹین کی "بلیک بک” (رابطہ فہرست) میں پائے گئے یا ان کے ساتھ ماضی میں ملاقاتوں اور خط و کتابت کے شواہد ملے ہیں۔
واضح رہے کہ ناموں کی موجودگی کا مطلب لازمی طور پر کسی جرم میں ملوث ہونا نہیں ہے، بلکہ یہ اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو ایپسٹین نے عالمی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے گرد بن رکھا تھا۔
یہی وہ باریک لکیر ہے جہاں خبر، قیاس اور الزام ایک دوسرے میں ضم ہونے لگتے ہیں۔
ایپسٹین پر الزام تھا کہ وہ بااثر شخصیات کو اپنے نجی جزیرے "لٹل سینٹ جیمز” پر مدعو کرتا تھا اور وہاں ہونے والی غیر اخلاقی سرگرمیوں کو خفیہ طور پر ریکارڈ کر کے ان شخصیات کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ دستاویزات میں اشارہ ملتا ہے کہ کچھ عرب شخصیات نے بھی ان محفلوں میں شرکت کی تھی، حالانکہ ان کے خلاف تاحال کوئی براہِ راست مجرمانہ ثبوت یا گواہی سامنے نہیں آئی۔
ایپسٹین کی حکمتِ عملی ہی یہی تھی کہ وہ بااثر لوگوں سے روابط قائم کرے، سماجی تقریبات، خیراتی تقریبات اور مالیاتی مواقع کے ذریعے خود کو ایک عالمی نیٹ ورک کے مرکز میں لا کھڑا کرے۔
ایپسٹین نے خلیجی ممالک کے خود مختار دولت فنڈز اور بڑے بینکوں سے روابط بڑھانے کی کوشش کی۔ اس کا مقصد مبینہ طور پر بھاری سرمایہ کاری حاصل کرنا اور خود کو ایک بااثر مالیاتی مشیر کے طور پر منوانا تھا۔
مشرقِ وسطیٰ کے سرمایہ کاری فنڈز عالمی منڈیوں میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان تک رسائی کسی بھی سرمایہ کار کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ایپسٹین نے اسی خواہش کو اپنے اثر و رسوخ کی توسیع کے لیے استعمال کیا۔
یہ ساری تصویر ایک پیچیدہ سوال چھوڑ جاتی ہے: کیا ایپسٹین محض ایک جرائم پیشہ شخص تھا جو بااثر لوگوں کے قریب جا کر اپنی طاقت بڑھاتا رہا، یا وہ عالمی اشرافیہ کے اس نیٹ ورک کی علامت تھا جہاں تعلقات، تحائف، سرمایہ کاری اور خفیہ مفادات ایک دوسرے میں گندھے ہوتے ہیں؟ عرب ناموں کی موجودگی نے اس بحث کو مذہبی اور سفارتی حساسیت بھی عطا کر دی ہے،
آج جب ان فائلوں کے ورق الٹ رہے ہیں، تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سنسنی خیزی اور حقائق کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچیں۔ کسی بھی شخصیت پر محض رابطوں کی بنیاد پر بہتان تراشی کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ قانونی طور پر بھی ناقابلِ قبول ہے۔
یہ دستاویزات اس پیچیدہ عالمی نظام کی عکاسی ضرور کرتی ہیں جہاں طاقتور لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، مگر ہر تعلق کو گناہ کی نظر سے دیکھنا ناانصافی ہوگی۔


