شرجیل میمن نے ’’فیک نیوز‘‘کو بڑا مسئلہ قراردیدیا،اسمبلی میں قراردادلانے کا مطالبہ کردیا

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ فیک نیوز ایک اہم مسئلہ ہے اور جعلی خبروں کے ذریعے لوگوں اور ان کے خاندانوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص جعلی خبروں کے خلاف فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کرا سکتا ہے اور وفاقی حکومت نے پیکا ایکٹ بھی بنایا ہے۔

سندھ اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بدنامی (ڈیفیمیشن) کا قانون بھی موجود ہے، لیکن یاد نہیں کہ اس قانون کے تحت کسی کو سزا ملی ہو۔ انہوں نے مثال دی کہ برطانیہ میں اگر کسی چینل کو سزا دی جاتی ہے تو وہ معافی مانگتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جعلی خبروں کے معاملے پر سندھ اسمبلی میں قرارداد لائی جائے اور ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، جو قانون سازی اور عمل درآمد کے بارے میں سفارشات تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آزادی اظہار کے خلاف نہیں ہیں، لیکن جعلی خبروں کے خلاف ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صوبے کے پاس بھی ایسی اتھارٹی ہونی چاہیے تاکہ اگر کوئی چینل یا فرد غلط خبر پھیلا رہا ہو تو حکومت براہ راست کارروائی کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی اس معاملے پر غور کرے اور ہر مسئلے کا حل تلاش کرے۔

انہوں نے کہا کہ کون سی اخباروں کو اشتہار دینا ہے یہ فیصلہ اپنی ذمہ داری سے لیں اور اے پی این ایس کو دیں۔

اے پی این ایس کی باڈی کو اختیار دینا چاہتے ہیں تاکہ ہمارا کام آسان ہو جائے اور یہ اخباروں کو اشتہار دینے کا بہترین نظام ہو سکتا ہے، بار بار تحریری خط کو کتابت کے باوجود اے پی ایس این ایس کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں آیا۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ احتجاج کا حق سب کو حاصل ہے لیکن عوام کو نقصان پہنچانے کا حق نہیں۔

سب کو اسمبلی میں بات کرنے کا حق ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم اسمبلی کے رکن ہیں، وہ یہاں آ کر آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ روزانہ پریس کانفرنس تو کرتے ہیں لیکن یہاں کیوں نہیں آتے؟ کیا سرکاری اجازت سب کو دی جائے کہ جہاں چاہیں روڈ بند کریں؟ کچھ دن پہلے شاہراہ فیصل بند کی گئی۔ واقعہ والے دن بھی جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے ساتھ پولیس انتظامیہ نے کہا کہ آپ ریڈ زون میں نہیں آ سکتے۔ باقی ریڈ زون میں آنے سے پولیس نے روک دیا تو پتھراؤ کیا گیا اور سابق رکن اسمبلی عبدالرشید نے کارکنوں کو کہا کہ پولیس پر حملہ کریں۔ کیا یہ دہشت گردی نہیں؟

انہوں ںے کہا کہ جمہوریت اور احتجاج کے آڑ میں کسی کو نقصان پہنچانے کا حق نہیں، آپ کا امیر حافظ نعیم، جو اس اسمبلی کا رکن ہے، روزانہ ساڑھے گیارہ بجے پریس کانفرنس کے لیے آ جاتے ہیں لیکن ایوان میں حلف کیوں نہیں لیتے؟ شاہراہ فیصل پر منع کرنے کے باوجود آپ نے احتجاج کیا اور روڈ بند کیا۔ احتجاج کے لیے آپ کو سندھ حکومت متبادل جگہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ سندھ حکومت نے جماعت اسلامی کو ریڈ لائن میں داخل ہونے سے روکا۔ ایوان میں گھسنے کی کوشش کہاں کی جمہوریت ہے؟

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پولیس پر جماعت اسلامی کے کارکنوں نے پتھراؤ کیا، سابق ایم پی اے عبدالرشید نے کارکنوں کو ہدایت دی کہ پولیس پر پتھراؤ کریں، کیا پولیس لاوارث ہے؟ کیا پولیس پر حملہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا پولیس اہلکار کراچی کے شہری نہیں ہیں، ان کا اپنا خاندان نہیں ہے؟ حکومت نے جمااعت اسلامی کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکا لیکن جماعت اسلامی نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایوان میں جو بات کرنی ہو کریں، لیکن روڈ بند کر کے عوام کو تکلیف دینا مناسب نہیں۔

کراچی کے عوام کو تکلیف دینے کے لیے روڈ بند کرتے رہیں، انہیں خبر بنانی تھی، اس لیے انہوں نے کہا پولیس پر حملہ کریں، اسمبلی کے فلور پر دو گھنٹے بات کریں، روڈ پر تماشہ اور شاہراہ فیصل بند نہ کریں۔

اانہوں ںے کہا کہ اگر سب کو اجازت کیوں دی جائے کہ پورے ملک میں جہاں چاہیں روڈ بند کریں تو عوام کہاں جائیں؟ کل شہر میں دس جگہوں پر دھرنے دیے گئے اور عوام کو پریشان کیا گیا، عوام کی خدمت نہیں کی گئی، ہمیشہ انہیں پریشان کیا جاتا رہا۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پی ٹی آئی کارکنان پر پولیس تشدد پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ایم پی اے پر تشدد پر وہ شرمندہ ہیں، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، جو چیز غلط ہے وہ غلط ہے، ہماری لیڈر محترمہ فریال تالپور کو ہسپتال سے گرفتار کیا گیا، جو ٹاک شو میں بات کرتا تھا اس کو نیب سے اٹھوایا جاتا تھا، خورشید شاہ کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا، مرحوم آغا سراج درانی صاحب کو گرفتار کیا گیا، جس طرح جعلی مقدمات بنا کر لوگوں کو گرفتار کیا گیا اس وقت آپ کو ہوش نہیں تھا۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم برداشت کر لیں گے لیکن یہ برداشت نہیں کر پائیں گے۔ آج وہی ہو رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button