اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کو ریاستی ملکیت قرار دیدیا، پاکستان کی جانب سے مذمت

مقبوضہ بیت المقدس، اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک\ جانوڈاٹ پی کے) اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسیع علاقوں کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی منظوری دے دی، پاکستان نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس فیصلے کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے سے اسرائیل مستقبل کی ترقی کے لیے اس علاقے کے وسیع رقبے پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور مغربی کنارے میں ’زمین کی ملکیت کے تصفیے کا قانونی عمل دوبارہ شروع ہو جائے گا جو 1967 میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے منجمد تھا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اسرائیل کسی خاص علاقے میں زمین کی رجسٹریشن شروع کرے گا تو زمین پر دعویٰ کرنے والے کسی بھی شخص کو ملکیت ثابت کرنے والی دستاویزات جمع کروانی ہوں گی۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان اسرائیلی قابض طاقت کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو نام نہاد ریاستی ملکیت میں تبدیل کرنے اور غیرقانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی تازہ ترین کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون کے ساتھ ساتھ متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے اسے مسترد کرنا چاہئے۔
بیان میں کہا گیا کہ قابض طاقت کا بین الاقوامی قانون کی مسلسل نظر اندازی اور اس کے اشتعال انگیز اقدامات خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے امکانات کو کمزور کر رہے ہیں۔
پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیلی استثنیٰ کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنائے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، قابل عمل اور ملحقہ ریاست فلسطین کے قیام کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
اسرائیلی آباد کاری مخالف گروپ پیس ناؤ نے کہا کہ یہ عمل ممکنہ طور پر فلسطینیوں کی زمین پر ’زمین پر بڑے پیمانے پر قبضے‘ کے مترادف ہے، یہ اقدام بہت ڈرامائی ہے اور ریاست کو ایریا سی کے تقریباً تمام حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
فلسطینیوں کے ساتھ 1990 کی دہائی میں طے پانے والے معاہدوں کے مطابق ایریا سی مغربی کنارے کے اس 60 فیصد حصے پر مشتمل ہے جو مکمل طور پر اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے دفتر نے ایک بیان میں اس فیصلے کو ایک سنگین پیش رفت اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا، جو ’عملی طور پر الحاق‘ کے مترادف ہے، صدارتی دفتر نے نے بین الاقوامی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
اردن کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھائے، اور قابض طاقت اسرائیل کو اس کی خطرناک پیش رفت کو روکنے پر مجبور کرے۔
قطر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ اسرائیل کے فیصلے کو فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے اس کے غیر قانونی منصوبوں کی توسیع سمجھتی ہے۔
فلسطینی شہریوں کو نجی طور پر اسرائیلی شہریوں کو زمین فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے، حالاں کہ گذشتہ ہفتے اعلان کردہ اقدامات کا مقصد اسے کالعدم کرنا ہے۔ فی الحال، آباد کار اسرائیل کی حکومت کے کنٹرول والی زمین پر گھر خرید سکتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے کے فیصلے کا مقصد مغربی کنارے میں ماحولیاتی اور آثار قدیمہ کے امور سمیت فلسطینیوں کے زیر انتظام علاقوں میں اسرائیلی نفاذ کے کئی پہلوؤں کو بڑھانا بھی تھا۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور غزہ پر تازہ حملوں میں مزید 11 فسلطینی شہید ہوگئے جبکہ لبنان شام سرحد پر ڈرون حملوں میں 4 لبنانی شہید کر دیے گئے۔
عرب میڈیا الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی این جی او ہتزلخا کی جانب سے اسرائیل کے فریڈم آف انفارمیشن قانون کے تحت حاصل کی گئی معلومات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج میں 50 ہزار سے زائد ایسے اہلکار ہیں جن کے پاس اسرائیلی شہریت کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت بھی ہے، ان میں اکثریت امریکی اور یورپی پاسپورٹ رکھنے والوں کی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 12 ہزار سے زائد امریکی، 6 ہزار سے زائد فرانسیسی، 5 ہزار روسی، تقریباً 4 ہزار یوکرینی اور 1,600 سے زائد جرمن شہری اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
برطانوی، کینیڈین، برازیلی، جنوبی افریقی اور لاطینی امریکی ممالک کے شہری بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق برطانیہ، جرمنی، فرانس، بیلجیئم اور دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی فوج میں شامل غیر ملکی شہریوں کے خلاف مقدمات دائر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، کچھ ممالک میں ابتدائی تحقیقات بھی شروع ہو چکی ہیں تاہم تاحال کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔



