سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود حکومتی تاخیری حربے بدنیتی کے مترادف ہیں،سہیل آفریدی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کے علاج کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید تاخیر سنگین نتائج جنم دے سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پورے پاکستان میں عوام اپنی مدد آپ کے تحت پرامن احتجاج کر رہے ہیں اور اپنے آج اور مستقبل کی بات کر رہے ہیں، تاہم سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وفاقی حکومت کا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے پرامن احتجاج کو سبوتاژ کیا جائے اور اس میں اپنے عناصر شامل کر کے 9 مئی جیسے واقعات کی فضا پیدا کی جائے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کارکنان مکمل طور پر پرامن ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو دنوں سے مختلف مقامات پر احتجاج جاری ہے لیکن اب تک کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان ذمہ دار اور پرامن ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود حکومتی تاخیری حربے اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ نیت صاف نہیں، ہم بار بار واضح کر چکے ہیں کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ سیاست سے بالاتر ہے، ان کا علاج ذاتی معالج کی نگرانی میں اور اہل خانہ کو اعتماد میں لے کر کیا جانا ان کا بنیادی انسانی اور آئینی حق ہے، یہ کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات پر جتنی تاخیر کی جائے گی اتنا ہی ملک کے حالات حکومت اپنے ہاتھوں سے خراب کرے گی، جب عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں تو علاج میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں بنتی، اگر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو وہ چھپ نہیں سکے گی اور اگر کوئی غلطی نہیں ہوئی تو تاخیر کی ضرورت ہی کیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم اپنے کارکنان کو مسلسل ہدایت دے رہے ہیں کہ کسی بھی اشتعال انگیزی یا انتشار پھیلانے کی کوشش کو ناکام بنائیں، اگر کوئی شرپسند عناصر احتجاجی صفوں میں گھسنے کی کوشش کریں تو انہیں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد آئینی، قانونی اور پرامن ہے اور رہے گی، اگر قوم اور پارٹی کو مطمئن نہیں کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ پارٹی قیادت مشاورت سے کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر پینک پیدا کرنا چاہتی ہے جو نہایت خطرناک طرز عمل ہے، ماضی میں تشدد اور گولیوں کے واقعات سب کے سامنے ہیں، اس لیے حکومت کو انسانی جانوں سے کھیلنے سے باز رہنا ہوگا۔
پارلیمنٹ ہاؤس پر تالوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ لنگڑی جمہوریت کی علامت ہے جسے موجودہ حکمرانوں نے خود بند گلی میں دھکیل دیا ہے اور یہ تالا انہیں سیاسی طور پر بہت مہنگا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر فوری عمل ہی ملک میں استحکام کی واحد ضمانت ہے اور مزید تاخیر سنگین نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔



