ٹھٹھہ پریس کلب میں تخلیق فاؤنڈیشن، فافن اور ٹی ڈی ای اے کی جانب سے آر ٹی آئی ایکٹ 2016 پر صحافیوں کی ورکشاپ کا انعقاد

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن نمائندہ جانو.پی کے)تخلیق فاؤنڈیشن، فافن اور ٹی ڈی ای اے کی جانب سے  پریس کلب ٹھٹھہ میں آر ٹی آئی ایکٹ 2016 کے حوالے سے صحافیوں کے لیے ایک ورکشاپ منعقد کیا گیا

 تخلیق فاؤنڈیشن، فافن اور ٹی ڈی ای اے کی جانب سے  پریس کلب ٹھٹھہ میں آر ٹی آئی ایکٹ 2016 کے حوالے سے صحافیوں کے لیے ایک ورکشاپ منعقد کیا گیا ورکشاپ کا مقصد صحافیوں کو رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI)، قانون کے بارے میں آگاہی دینا تھا جس کے عملی استعمال اور سرکاری اداروں سے معلومات حاصل کرنے کے قانونی طریقہ کار کے بارے میں تربیت فراہم کرنا تھا تخلیق فاؤنڈیشن کے سی او محمد یعقوب نے صحافیوں کو بتایا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 صحافت کے لیے ایک اہم اوزار ہے، جس کے ذریعے شفافیت کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور عوامی مفاد کے معاملات سامنے لائے جا سکتے ہیں ورکشاپ میں شامل شرکاء نے درخواست لکھنے، اختیاریوں سے رابطہ کرنے اور معلومات حاصل کرنے کے وقت پیش آنے والے مسائل کے بارے میں تفصیلی معلومات دی گئیں اس موقع پر پریس کلب ٹھٹھہ کے صدر اقبال جاکھرو، سینیئر صحافی اسماعیل میمن، خدا بخش بروہی، ڈاکٹر شاہد صدیقی، جاوید لطیف میمن، زہیر علی اور دیگر نے ورکشاپ میں شرکت کی ورکشاپ کے آخر میں سوال جواب کا سیشن بھی ہوا، جس میں صحافیوں نے اپنے خیالات اور تجویزات پیش کیں دوسری جانب تخلیق فاؤنڈیشن نے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ٹھٹھہ، گورنمنٹ ایلیمنٹری فار وومین کالج ٹھٹھہ اور پولی ٹیکنیکل انسٹیٹوٹ ٹھٹھہ مکلی میں رائٹ ٹو انفارمیشن کے بارے میں شاگردوں کو آگاہی دی۔ اس موقع پر گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ٹھٹھہ کے پرنسپل شفیق الرحمٰن، پروفیسر اعجاز پلیجو، ایلیمنٹری کالج فار وومین کی پرنسپل عصمت، محسن،

 اور پولی ٹیکنیکل آئ ٹی سیکشن انچارج صنم برڑو نے بھی آر ٹی اے کے حوالے سے معلومات فراھم کیں جنہوں نے سنڌ حکومت کے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 کی تعریف کی اور اسے وقت کی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اس ایکٹ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینے کے لیے مزید تربیتی ورکشاپوں کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔

مزید خبریں

Back to top button