سپیس سیکس: انسان یا نئی نوع کی افزائش کا ہولناک منصوبہ ( پارٹ 2)

نہال ممتاز

جب قدرتی طریقے ناکام ہونے لگیں، تو سائنس مصنوعی راستے تلاش کرتی ہے۔ خلا میں بھی یہی ہونے جا رہا ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ بچہ کیسے پیدا ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ بچہ کیسے پیدا کیا جائے گا؟

مصنوعی کوکھ، جسے بائیو بیگ کہا جاتا ہے، مستقبل کے خلائی بچوں کا نیا گہوارہ بن سکتی ہے۔ شفاف تھیلے جیسے اس نظام میں مصنوعی ایمنیوٹک فلوئڈ، درجہ حرارت اور دباؤ سب کچھ ماں کے پیٹ جیسا ہوگا۔ فرق صرف ایک ہوگا: یہ مشین تابکاری سے محفوظ ہوگی، انسانی جسم نہیں۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ خلا میں جنین کو بچانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اسے انسانی جسم سے باہر، لوہے کی ڈھال میں پالا جائے۔ یہ خیال سننے میں سائنس فکشن لگتا ہے، مگر اس پر عملی تجربات زمین پر شروع ہو چکے ہیں۔

اس کے ساتھ “اسپیس IVF” کا تصور سامنے آتا ہے۔ مائیکرو گریوٹی میں سپرم کی سستی کو دور کرنے کے لیے نینو روبوٹس تیار کیے جا رہے ہیں، جو سپرم کو پکڑ کر بیضے میں داخل کریں گے۔ یعنی تولید اب فطری عمل نہیں، ایک مائیکرو سرجری ہوگی ،وہ بھی زمین سے لاکھوں میل دور۔

مصنوعی کوکھ بھی کافی نہ ہو، تو سائنس ایک اور سرحد عبور کرنے کو تیار ہے:

” انسان کو ہی بدل دیا جائے” جینیاتی انجینئرنگ اور CRISPR ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسے انسانوں کا تصور سامنے آ رہا ہے جو خلا کے لیے “ڈیزائن” کیے جائیں گے۔

یہ سپر ہیومن تابکاری کو برداشت کر سکیں گے، ان کی ہڈیاں مائیکرو گریوٹی میں گھلیں گی نہیں، ان کا جسم خلا کے لیے موزوں ہوگا۔ یہاں تک کہ کچھ سائنسدان ٹارڈی گریڈ جیسے جانداروں کے جینز شامل کرنے کے امکان پر بھی بات کر رہے ہیں یعنی وہ جاندار جو خلا کے خلا میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔

یہیں سے انسان اور نئی نوع کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔ یہ خلائی انسان زمین کے عام انسانوں سے اتنے مختلف ہوں گے کہ انہیں ایک الگ Species کہنا زیادہ درست ہوگا۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں ایک نئی “جینیاتی نسل پرستی” جنم لے سکتی ہے۔

جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خلائی انسان صرف سائنسی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک جیو پولیٹیکل خطرہ بھی ہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔

مزید خبریں

Back to top button