فیکٹریوں کے زہریلے فضلے سے ساحلی جھیلیں آلودہ،سکیورٹی اہلکاروں نے صحافیوں کو میڈیا کوریج سے روک دیا

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)فیکٹریوں کا زہریلا فضلہ سیم نالوں سے ہوتا ہوا ساحلی جھیلوں میں خراج ، ماحولیاتی بحران ، ماہی گیروں کو درپیش مسائل اور مشکلات کو بے نقاب کرنے والے صحافیوں کی ٹیم کو زیرو پوائنٹ پر میڈیا کوریج سے روک دیا گیا

بدین سجاول اور ٹنڈو محمد خان میں قائم شوگر ملوں، الکوحل اور دیگر صنعتی فیکٹریوں سے خارج ہونے والے زہریلے کیمیکل اور فضلہ کے ایل بی او ڈی سیم نالہ، امیر شاہ سیم نالہ اور کارو گھنگڑو سیم نالہ سمیت دیگر سیم نالوں نالوں میں اخراج کے باعث ساحلی علاقوں، قدرتی جھیلوں اور آبی ذخائر میں ماحولیاتی آلودگی میں تشویشناک اضافہ ہو گیا ہے، جس سے انسانی زندگی، مال مویشی اور آبی حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان مسائل کا جائزہ لینے اور میڈیا کوریج کے لیے جانے والی صحافیوں کی ٹیم کو ساحلی ماہی گیری بستی زیرو پوائنٹ پر قائم چیک پوسٹ کے اہلکاروں نے روک دیا تفصیلات کے مطابق بدین پریس کلب اور ایوان صحافت بدین کے سینئر صحافی، پاکستان فشر فوک فورم کے ضلعی صدر حاجی نبی بخش جنرل سیکرٹری عمر ملاح ، قاسم بچو ، اور دیگر ماہی گیر رہنماؤں کے ہمراہ بدین اور سجاول کے سنگم پر واقع بستی پہنچے تو اہلکاروں نے شناختی کارڈز کی جانچ اور اندراج کے بعد مؤقف اختیار کیا کہ اعلیٰ حکام کی اجازت کے بغیر میڈیا کوریج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ صحافیوں اور ماہی گیروں نے مؤقف دیا کہ وہ ماضی میں بھی سمندری طوفانوں، سیلابی صورتحال اور مقامی مسائل کی رپورٹنگ کے لیے آتے رہے ہیں اور کبھی روکا نہیں گیا، جبکہ سمندر اور پاک بھارت سرحد بھی اس مقام سے خاصے فاصلے اور کئی میل دور واقع ہیں۔ اس کے باوجود انہیں اجازت نہ مل سکی۔ رینجرز حکام نے بتایا کہ اعلیٰ اتھارٹی سے اجازت طلب کی گئی ہے، تاہم دن بھر انتظار کے بعد بھی منظوری نہ ملنے پر ٹیم کو بغیر کوریج واپس لوٹنا پڑا  مقامی ماہی گیروں نے بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور تعینات اہلکاروں کے نامناسب رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ محب وطن شہری ہیں اور کبھی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں پائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پینے کے صاف پانی، صحت، تعلیم اور بجلی جیسی سہولیات کا فقدان ان کی زندگی کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔ ایک ماہی گیر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے باعث ماہی گیر کا بچہ بھی مجبوری میں یہی پیشہ اپنانے پر مجبور ہے۔ اس موقع پر ماہی گیر رہنماؤں نے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے بدین، سجاول اور ٹھٹھہ کے ساحلی علاقوں کی ترقی، خوشحالی اور غربت کے خاتمے کے لیے متوقع طور پر پچاس ارب روپے سے زائد فنڈز کی منظوری پر خوشی کا اظہار کیا، تاہم خدشہ ظاہر کیا کہ ماضی کی طرح بدعنوانی اس منصوبے کو متاثر نہ کرے کیونکہ منصوبے پر عمل درآمد سے قبل ہی کرپٹ مافیا رقم کو ہڑپ کرنے منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے پر عمل درآمد سے قبل مقامی اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز اور حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس سمیت صحافتی تنظیموں بدین پریس کلب اور ایوان صحافت بدين کے عہدیدران اور سنئیر صحافیوں نے میڈیا کوریج سے روکنے کے اقدام پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون صحافیوں کو عوامی مسائل اجاگر کرنے کا حق دیتا ہے۔ صحافتی، انسانی حقوق اور ماہی گیر تنظیموں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا نوٹس لے کر ایسے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ آئندہ کسی صحافی کو پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرنے سے نہ روکا جائے

مزید خبریں

Back to top button