پاکستان تمام ممالک کیساتھ مل کر باہمی افہام و تفہیم، امن اور پائیدار ترقی کے فروغ کیلئے تیارہے،صدر مملکت

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان تمام ممالک کے ساتھ مل کر باہمی افہام و تفہیم، امن اور پائیدار ترقی کے فروغ کےلئے تیار ہے۔صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں ایوان صدر میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ”قیادت اور استحکام“ کے موضوع پر ہونے والی چھٹی بین الاقوامی ورکشاپ کے شرکا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قیادت اور استحکام وہ بنیادی ستون ہیں جن پر قومیں اور ادارے قائم ہوتے ہیں، آج دنیا تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے دوچار ہے جن میں جغرافیائی و سیاسی تبدیلیاں، ابھرتے ہوئے سلامتی کے خطرات اور گورننس میں ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا کردار شامل ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ورکشاپ کے اختتام پر آپ سے خطاب کرنا میرے لئے باعث مسرت ہے۔ انہوں نے شرکا کو کورس کی کامیاب تکمیل پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں اس اہم فورم کے انعقاد پر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اس نوعیت کی ورکشاپس پالیسی سازوں، سفارتکاروں، عسکری حکام، ماہرین تعلیم اور نجی شعبے کے رہنمائوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتی ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ قیادت اور استحکام جیسے اہم موضوعات پر غور و فکر کے لیے ایک قیمتی موقع فراہم کرتی ہیں۔ صدر نے اس توقع کا اظہار کیا کہ یہاں حاصل ہونے والی بصیرتیں ہمارے اداروں اور معاشرے کے وسیع تر حلقوں تک پہنچیں گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ سلامتی اب صرف روایتی تنازعات تک محدود نہیں رہی، اس میں سائبر سکیورٹی، ہائبرڈ خطرات اور معلوماتی چیلنجز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، وسائل کی کمی اور گمراہ کن معلومات سرحدوں سے ماورا مسائل ہیں جن کےلئے مشترکہ اور اجتماعی حل درکار ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ ورکشاپ محض ایک علمی مشق نہیں ہے، یہاں ہونے والی گفتگو کو عملی اور قابل عمل حل میں ڈھالیں، تقسیم کے بجائے مکالمے اور تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کریں۔ صدر مملکت نے ورکشاپ کے منتظمین، شرکا اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس ورکشاپ کو ممکن بنایا۔ انہوں نے کہا کہ میری دعا ہے کہ آپ کی گفتگو بصیرت افروز ہو، آپ کے تعاون دیرپا ثابت ہوں اور یہاں گزارا گیا وقت آپ کے لئے بامعنی اور یادگار رہے۔ ”قیادت اور استحکام“ کے موضوع پر ہونے والی چھٹی بین الاقوامی ورکشاپ میں 49 ممالک کے 69 افراد شریک ہوئے جبکہ پاکستان سمیت مجموعی شرکا کی تعداد 99 تھی۔صدر آصف علی زرداری نے شرکا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطہ کے کئی ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے اور باہمی تکنیکی ترقی کے ذریعے ورک فورس کو مضبوط کرنے کےلئے تیار ہے۔ انہوں نے سربیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سربیا کے ساتھ کام کرنے اور دونوں ممالک کے تھنک ٹینکس، صنعت اور اکیڈمیا کے درمیان فعال رابطوں کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور دنیا کے پاس تعاون کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ سب ممالک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور مشترکہ چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ صدر نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترمیم قوم کو پائیدار مستقبل اور بقاء کی ضمانت دینے کےلئے تیار کی گئی تھی کیونکہ یہ عوام کے جذبات اور قومی دولت کے حوالے سے عوام کے فیصلوں میں شراکت داری کو عزت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ہر ملک کے اپنے قومی مفادات ہیں، ہم ممالک کے درمیان جنگ اور تنازعات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے بلکہ مسائل کے حل کےلئے مسلسل مکالمے کو فروغ دیتے ہیں، ہمارا خطہ غیر مستحکم ہے لیکن مجھے امید ہے کہ خطے میں کوئی تنازعہ جنم نہیں لے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے اس وژن پر یقین رکھتی ہے کہ خواتین میں قیادت کے جذبے کو فروغ دیا جائے اور انہیں ان کے حقوق دلوائے جائیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن اور جمہوریت کےلئے ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے اپنی یادیں بھی تازہ کیں اور کہا کہ انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھی کے طور پر عوام کی خدمت، خواتین کو بااختیار بنانے اور قومی مضبوطی کو جمہوری معاشرے کے طور پر فروغ دینے کےلئے اپنی توانائی اور جذبہ وقف کیا۔ اس موقع پر اپنے ابتدائی خیرمقدمی کلمات میں میجر جنرل محمد رضا نے ورکشاپ کے شرکا کو ایوان صدر کا دورہ کرنے کا موقع فراہم کرنے پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ورکشاپ کے شرکا کا تعارف کرایا جس میں پاکستان کے 30 شرکا نے بھی شرکت کی جو صنعت، کاروبار، تھنک ٹینکس، فوج، اکیڈمیا اور میڈیا سمیت معاشرے کے تمام شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ورکشاپ میں متعدد موضوعات پر گفتگو ہوئی جن میں عالمی نظام میں تبدیلی، موسمیاتی تبدیلی، اقتصادی تصورات اور پاکستان کی ثقافت و فنون سمیت مختلف موضوعات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورکشاپ میں شرکت کے بعد شرکا دنیا بھر میں موجود 3000 سے زائد سابقہ شرکا کے مضبوط نیٹ ورک کا حصہ بن جائیں گے۔



