سپیس سیکس: انسان یا نئی نوع کی افزائش کا ہولناک منصوبہ ( پارٹ1)

نہال ممتاز

خلا میں انسانی بستیوں کا تصور جتنا رومانوی لگتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی بے رحم ہے۔ ہم مریخ پر شہر بسانے کے خواب تو دیکھ رہے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ انسانی جسم خلا کا شہری نہیں، زمین کا قیدی ہے۔ اس کی ہر سانس، ہر خلیہ، ہر ہڈی کششِ ثقل اور زمینی ماحول کی مرہونِ منت ہے۔ جیسے ہی انسان زمین کی حفاظتی فضا سے باہر قدم رکھتا ہے، سب سے پہلے اس کی نسل خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

خلا میں داخل ہوتے ہی کائناتی شعاعیں انسانی جسم پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ یہ شعاعیں نظر نہیں آتیں، مگر ڈی این اے کو ایسے چیرتی ہیں جیسے ایٹمی گولیاں۔ سب سے زیادہ حساس نشانہ سپرم اور بیضے بنتے ہیں۔ سائنسدان خبردار کر چکے ہیں کہ مائیکرو گریوٹی میں سپرم اپنی سمت کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ تیر تو سکتے ہیں، مگر مقصد تک پہنچنے کی صلاحیت مفلوج ہو جاتی ہے۔ گویا خلا میں زندگی کی پہلی سیڑھی ہی ٹوٹ جاتی ہے۔

فرض کریں اگر کسی طرح فرٹیلائزیشن ہو بھی جائے، تو مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ جنین کی نشوونما کششِ ثقل کی محتاج ہے۔ زمین پر بچے کی ہڈیاں، پٹھے اور اندرونی اعضاء گریوٹی کے مطابق ترتیب پاتے ہیں۔ خلا میں پیدا ہونے والا بچہ یہ “سمجھ” ہی نہیں پاتا کہ اسے کس سمت بڑھنا ہے۔ خدشہ ہے کہ ایسا بچہ زمین پر قدم رکھتے ہی اپنے ہی وزن کا بوجھ نہ سہہ سکے۔

یہ محض نظری خدشات نہیں۔ طویل خلائی مشنوں میں مردوں کے ہارمونز، سپرم کی مقدار اور خواتین کے تولیدی نظام میں غیر معمولی تبدیلیاں نوٹ کی جا چکی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ انسان خلا میں رہ سکتا ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا انسان وہاں اپنی نسل بچا سکتا ہے؟

یہیں سے خلا میں بستیوں کا خواب ایک سادہ سائنسی منصوبے سے نکل کر ایک وجودی بحران بن جاتا ہے۔ اگر قدرتی تولید ناکام ہو جائے، تو پھر انسان کو خود کو بدلنا ہوگا۔

اور یہی وہ موڑ ہے جہاں سائنس اگلا خطرناک قدم اٹھانے جا رہی ہے۔

جاری ہے…

مزید خبریں

Back to top button