بنگلہ دیش انتخابات کی نگرانی کیلئے 55 ہزار سے زیادہ مبصرین سرگرم

ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کا تختہ الٹنے کے بعد آج ہونے والے انتخابات کی نگرانی 55 ہزار سے زیادہ مبصرین کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیشی الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً 55 ہزار 454 مبصرین 81 مقامی تنظیموں کی جانب سے انتخابات کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ غیر ملکی مبصرین کی تعداد 394 ہے۔
بتایا گیا کہ انتخابات اور ریفرنڈم کے مشاہدے کے لیے تقریباً 200 غیر ملکی صحافی بھی بنگلہ دیش پہنچے ہیں، بین الاقوامی مبصرین میں سے 80 مختلف عالمی تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ باقی مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں آزاد یورپی مبصرین بھی شامل ہیں۔
اہم بین الاقوامی تنظیمیں جنہوں نے مبصرین بھیجے ہیں ان میں ایشین نیٹ ورک فار فری الیکشنز، دولتِ مشترکہ سیکرٹریٹ، امریکہ میں قائم انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ اور نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں، دیگر تنظیموں میں اسلامی تعاون تنظیم ، انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس شامل ہیں۔
مبصرین 21 ممالک سے آئے ہیں جن میں پاکستان 8، بھوٹان 2، سری لنکا 11، نیپال 1، انڈونیشیا 3، فلپائن 2، ملائیشیا 6 ، اردن 2 ، ترکی 13، ایران 3، جارجیا 2، روس 2، چین 3، جاپان 4، جنوبی کوریا 2، کرغزستان 2، ازبکستان 2، جنوبی افریقہ 2 اور نائجیریا 4 شامل ہیں۔
وزارتِ خارجہ اور الیکشن کمیشن کی معلومات کے مطابق وائس فار جسٹس، ڈیموکریسی انٹرنیشنل، ایس این اے ایس افریقہ، سارک ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن، اور پولش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز جیسی تنظیموں کے 51 مبصرین انفرادی حیثیت میں بھی انتخابات کی نگرانی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیشی الیکشن کمیشن نے منصفانہ اور آزادانہ انتخابات یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں 9 لاکھ 58 ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں تاکہ کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اور عوام بلاخوف و خطر ووٹ ڈال سکیں۔



