دھاندلی کی صورت میں کسی کو نہیں بخشا جائے گا، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش

ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش میں انتخابات جوش و خروش سے جاری ہیں، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش شفیق الرحمان نے ووٹ ڈالنے کے بعد دھاندلی کی صورت میں سخت ردعمل کا انتباہ دیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ اگر دھاندلی کے الزامات سنجیدہ ہوئے تو کسی کو نہیں بخشا جائے گا، عوام گھروں سے نکل کر جمہوری حق استعمال کریں اور ملک کی تعمیر میں حصہ لیں۔
شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کی کامیابی کی صورت میں پہلی اسلام پسند حکومت قائم ہو سکتی ہے، ہم ایسے نتائج چاہتے ہیں جو ایک منصفانہ عمل کے ذریعے سامنے آئیں، اگر ووٹنگ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہو گی تو ہم اس کے نتائج کو قبول کریں گے، دوسروں کو بھی اسے تسلیم کرنا چاہیے، یہی جمہوریت کا حسن ہے، اور ہم یہی چاہتے ہیں۔۔
دوسری طرف نیشنل سٹیزن پارٹی کے سربراہ ناہید اسلام نے بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد کہا کہ ہم صرف آزاد اور منصفانہ انتخابات چاہتے ہیں، ہمیں ہار جیت سے فرق نہیں پڑتا، انتخابات آزادانہ ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے آج زندگی میں پہلی بار ووٹ ڈالا ہے اور مجھے امید ہے کہ انتخابات میں عوام کو اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے دیا گیا تو ہم جیت جائیں گے، گزشتہ رات ملک بھر میں کچھ ناخوشگوار واقعات پیش آئے، کچھ لوگ کشیدہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے، ہم ان واقعات پر زیادہ توجہ نہیں دے رہے کیونکہ ہم کسی تصادم یا جھگڑے کے خواہاں نہیں ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ لوگ آئیں اور ووٹ دیں۔۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلا خوف اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔
ادھر بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان نے ڈھاکہ کے گلشن ماڈل ہائی سکول میں ووٹ ڈالا، وہ سترہ سال بعد برطانیہ سے وطن واپس آئے ہیں۔
بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے آج اپنے والدین کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد ٹھاکرگاؤں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

انہوں نے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جمہوریت کے ایک نئے سفر کا آغاز ہو گیا ہے، ہمیں امید ہے کہ یہ راستہ ہموار ہوگا اور ہماری سیاست، معیشت اور ملک کو اس کے مطلوبہ ہدف کی طرف لے جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ دن بہت جدوجہد اور خون کے بدلے حاصل کیا ہے، 17 سال کے دوران لاکھوں لوگ قتل ہوئے، لاپتا کیے گئے اور ظلم و ستم کا نشانہ بنے، آج عوام نے اپنا حقِ رائے دہی حاصل کر لیا ہے۔
فخرالاسلام نے امید ظاہر کی کہ یہ انتخابات منصفانہ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہوں گے اور بنگلہ دیش کے لیے ایک نئے باب کا آغاز کریں گے۔
گزشتہ رات پیش آنے والے کچھ ناخوشگوار واقعات کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ شرپسند عناصر جو انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، یہ کام کر رہے ہیں، ہمیں امید ہے کہ انہیں شکست ہوگی۔



