ضلعی سطح کے اسٹیم مقابلے میں ڈپٹی کمشنر بدین کی خصوصی شرکت، طلبہ  کےتخلیقی صلاحیتوں، فنی مہارت اور جدت کو سراہا

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)ڈپٹی کمشنر بدین یاسر بھٹی نے گورنمنٹ ہائی اسکول ڈاکٹر عبدالجبار جونیجو میں منعقدہ ضلعی سطح کے اسٹیم (STEAM) مقابلے کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں ضلع کے مختلف سرکاری اسکولوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طلبہ و طالبات نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور ریاضی پر مبنی اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ جدید اور تخلیقی منصوبے پیش کیے ڈپٹی کمشنر نے مقابلے میں قائم ہر اسٹال کا دورہ کیا اور طلبہ کے ماڈلز اور منصوبوں کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی تخلیقی صلاحیتوں، فنی مہارت اور جدت کو سراہا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم بدین کی جانب سے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے، جہاں وہ اپنے خیالات کو عملی شکل دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی بہتری سمیت مختلف سماجی اور سائنسی شعبوں سے متعلق تیار کردہ ماڈلز اس بات کا ثبوت ہیں کہ نوجوان نسل جدید دور کے تقاضوں کو سمجھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

یاسر بھٹی نے کہا کہ طلبہ کی کامیابی کے پیچھے ان کے اساتذہ کی محنت اور رہنمائی نمایاں طور پر نظر آتی ہے، لہٰذا طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی کاوشوں کو بھی سراہنا ضروری ہے، جو اپنے شاگردوں کے روشن مستقبل کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری انور پارابی، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر سرفراز سموں، اسسٹنٹ کمشنر بدین راجیش دلپت اور دیگر افسران نے بھی مقابلے کا معائنہ کیا اور ایسے سائنسی و تعلیمی پروگراموں کو نوجوان نسل کی ذہنی اور تخلیقی تربیت کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ افسران کا کہنا تھا کہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اسٹیم جیسے مقابلے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، اور حکومت ایسے اقدامات کی مکمل سرپرستی جاری رکھے گی تاکہ طلبہ کو بین الاقوامی سطح پر مقابلے کے لیے تیار کیا جا سکے ایجوکیشن فوکل پرسن محمد خان سموں نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع بدین کے تمام سرکاری اسکولوں میں پہلے مرحلے کے طور پر اسٹیم مقابلے منعقد کیے گئے، جبکہ ضلعی سطح کے اس مقابلے میں اسکول سطح پر کامیاب ہونے والے طلبہ نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ صلاحیتوں کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں، صرف انہیں حوصلہ افزائی اور مناسب مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ مقابلے کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اسکولوں، کالجوں اور لاڑ سندھ یونیورسٹی کیمپس سے اہل ججز مقرر کیے گئے تھے مقابلے کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کو پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن پر انعامات اور اسناد سے نوازا گیا۔ طلبہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مقابلوں سے نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ ملتا ہے بلکہ سائنسی علم اور ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیم مقابلے نئی ٹیکنالوجی کو سمجھنے، نئے خیالات پیش کرنے اور اپنے مستقبل کو روشن بنانے کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں ضلعی سطح پر منعقد ہونے والا یہ اسٹیم مقابلہ نہ صرف بدین کے لیے اعزاز کا باعث بنا بلکہ ضلع کے طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور تعلیمی میدان میں نئی امید پیدا کرنے کی ایک روشن مثال بھی ثابت ہوا۔

مزید خبریں

Back to top button