فوج کا عمران خان کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں، 9 مئی کے بعد کے موقف پر ادارہ قائم ہے، سیکورٹی ذرائع

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) سیکورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ عمران خان کے خلاف کسی بھی کارروائی یا فیصلے کا تعلق عدالتوں اور سیاستدانوں سے ہے، فوج کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں۔ البتہ 9 مئی کے واقعات اور عسکری قیادت کے خلاف پراپیگنڈہ کے بعد عمران خان کے متعلق اختیار کیے گئے موقف پر ادارہ قائم ہے۔
لاہور میں سینئر صحافیوں سے ایک ملاقات کے دوران سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی سلامتی کے خطرات لاحق ہیں، افغانستان اور بھارت دہشت گردی میں ملوث ہیں بھارت دہشت گردی کی حمایت اور اسے سپانسرڈ کررہا ہے۔ سیکورٹی ذرائع نے کہاکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اندرونی سطح پر موجود اسباب کو ختم کرنا ضروری ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور گڈ گورننس کے قیام سے ہی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے۔دہشت گردی اور اسمگلنگ جیسے جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ یہ صرف فوج کی جنگ ہے۔ یہ صرف فوج کی نہیں بلکہ ہم سب کی جنگ ہے۔
ادارہ تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کا احترام کرتا ہے اور واضح کیا کہ فوج ریاست کی فوج ہے، کسی سیاسی جماعت، لسانی گروہ یا لیڈر کی نمائندگی نہیں کرتی۔ ادارے کا تعلق صرف ریاست سے ہے۔ ادارہ کا نکاح ریاست کے ساتھ ہے۔
ادارہ اس لئے گورننس پر زور دیتا ہے کہ کیونکہ بدانتظامی ، بیڈ گورننس سے انٹرنل سیکورٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور فوج انٹرنل سیکورٹی میں براہ راست ایک فریق ہے اس لئے اگر کوئی شخص یا جماعت گورننس یا سیاسی امور پر سیاست کرنے کی بجائے دہشت گردی پر سیاست کرے تو ادارہ اسے یہ ضرور سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ اس پر سیاست نہ کریں۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کی حکومت نے بھی دہشت گردی کے خاتمے کی ضرورت کو تسلیم کیا اور صوبائی ایپکس کمیٹی نے اس ضمن میں واضح عزم ظاہر کیا۔
عمران خان کے ساتھ ڈیل یا سیاسی مذاکرات کے حوالے سے سیکورٹی ذرائع نے کہا کہ یہ معاملہ سیاسی جماعتوں کا کام ہے، فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ البتہ 9 مئی کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور اس پر فوج کوئی رائے نہیں دے سکتی۔
ذرائع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 9 مئی کے حملوں اور فوجی کمان کے خلاف پراپیگنڈہ کے بعد اختیار کیے گئے موقف پر ادارہ آج بھی قائم ہے۔



