میرپورخاص: ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی محدود وسائل کے باوجود شاندار سالانہ کارکردگی

میرپور خاص (شاھدمیمن) میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرپورخاص ڈاکٹر پیر غلام نبی شاہ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرپورخاص میں عوام کو فراہم کردہ صحت کی سہولیات کی سالانہ کارکردگی رپورٹ شایع کر دی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ

محدود وسائل کے باوجود موجوده سول سرجن و ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال /سول اسپتال میرپورخاص کی شاندار اور تاریخی کارکردگی رہی ایم ایس کے مطابق سول اسپتال میرپورخاص کی سالانہ کارکردگی رپورٹس (2023 تا 2025) اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ محدود بجٹ، عملے کی کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کے باوجود موجوده سول سرجن وايم ايس پير غلام نبي شاه جيلاني کي سربراهي ميں اسپتال انتظامیہ اور طبی عملے نے عوامی خدمت میں نمایاں اور مثالی کارکردگی دکھائی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسپتال میں بیڈز کی تعداد صرف 300 رہی تاہم اس کے باوجود سال 2025 میں 7 لاکھ 45 ہزار سے زائد مریضوں کا او پی ڈی میں علاج کیا گیا، جبکہ 4 لاکھ 12 ہزار سے زیادہ مریضوں کو ایمرجنسی میں فوری طبی سہولیات فراہم کی گئیں، جو کہ سال 2023 کے مقابلے میں واضح اضافہ ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ایمرجنسی مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی علامت ہے کہ عوام کا اعتماد سول اسپتال میرپورخاص پر بڑھا ہے اور نجی اسپتالوں کے بجائے عوام سرکاری ادارے پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔

اسی طرح ٹی بی کے مریضوں کی رجسٹریشن 2023 کے مقابلے میں بڑھ کر 903 تک پہنچ جانا محکمہ صحت کی بہتر اسکریننگ، فیلڈ اسٹاف کی محنت اور آگاہی مہمات کا عملی ثبوت ہے۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے مزید بتایا کہ سول ہسپتال میں ایمبولینس سروسز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سانپ کاٹنے کی ویکسین اور ادویات کی فراہمی بھی موجود رہی لیبارٹری ڈیپارٹمنٹ نے بھی مثالی خدمات انجام دیں جہاں سال 2025 میں تقریباً 5 لاکھ ٹیسٹ کیے گئےجو کہ میرپورخاص ڈویژن کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں ایک نمایاں کارکردگی سمجھی جا رہی ہے۔ڈلیوری، سی سیکشن، آئی سرجری اور آرتھوپیڈک آپریشنز کی تعداد میں مسلسل اضافہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسپتال میں سہولیات بہتر ہو رہی ہیں اور مریضوں کو بڑے شہروں کا رخ کرنے کی ضرورت کم پڑ رہی ہے۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سندھ بیڈز، اسٹاف اور جدید مشینری میں اضافہ کر دے تو سول اسپتال میرپورخاص پورے ڈویزن كا ایک ماڈل و بهترين ہسپتال بن سکتا ہے.

مزید خبریں

Back to top button