نعش رکھ کر احتجاج: سکھر میں مبینہ تشدد سے شہری جاں بحق، ورثا کا بااثر افراد کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

سکھر(جانوڈاٹ پی کے) سکھر کے علاقے آرائیں روڈ، پرانا شاہپور، تعلقہ نیو سکھر کے رہائشی میمن برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ سکھر پریس کلب کے سامنے مبینہ طور پر تشدد سے جاں بحق ہونے والے منور میمن کی نعش رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے علاقے کے بااثر افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور تحفظ کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔احتجاج میں مزمل میمن، پٹھان میمن، مائی زرینہ، مائی حسنہ، غلام نبی میمن سمیت دیگر افراد شریک تھے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ تین روز قبل ان کے بھائی منور میمن عرف دلبر میمن گھر سے اپنی گاڑی میں روانہ ہوئے ہی تھے کہ کچھ فاصلے پر پہنچنے پر مبینہ طور پر علاقے کے بااثر افراد خادم حسین میمن، یاسین میمن، خالد میمن، سمیع اللہ میمن، ثناء اللہ میمن، پرویز میمن اور دو نامعلوم افراد نے اسلحے کے زور پر انہیں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ورثا کے مطابق مبینہ تشدد کے باعث منور میمن کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں موقع پر ہی دل کا دورہ پڑا۔ واقعے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے جبکہ اطلاع ملنے پر اہل خانہ نے منور میمن کو فوری طور پر این آئی سی وی ڈی اسپتال منتقل کیا، جہاں طبیعت تشویشناک ہونے کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے اور گزشتہ روز انتقال کر گئے۔مظاہرین کا الزام تھا کہ نامزد افراد علاقے میں بدامنی پھیلانے، شراب نوشی کرنے اور مبینہ طور پر گاؤں کے مکینوں سے زبردستی بھتہ وصول کرنے میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ غریب اور محنت کش لوگ ہیں اور بھتہ دینے کی استطاعت نہیں رکھتے، جس کے باعث انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا تھا۔مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ اس سے قبل بھی آباد تھانے میں متعدد بار درخواستیں دی گئیں مگر بااثر ہونے کے باعث ملزمان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ورثا اور مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِ اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر نامزد اور نامعلوم ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور متاثرہ خاندان کو تحفظ و انصاف فراہم کیا جائے۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے انصاف کے حق میں نعرے بازی کی اور خبردار کیا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ دائرہ احتجاج کو وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔



