بنگلہ دیش میں الیکشن ڈے الرٹ: تشدد، دباؤ اور افواہوں پر زیرو ٹالرنس، محمد یونس کا دوٹوک اعلان

ڈھاکا (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے عام انتخابات سے قبل قوم سے خطاب میں واضح کیا ہے کہ انتخابی عمل میں تشدد، ووٹرز پر دباؤ یا پولنگ میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ریاست سخت کارروائی کرے گی۔
قوم سے خطاب کرتے ہوئے محمد یونس نے کہا کہ پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ، ووٹنگ میں خلل یا بدنظمی پھیلانے والے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے اور من گھڑت مواد کے ذریعے بدامنی پیدا کرنے والوں کو بھی سخت وارننگ دی۔
چیف ایڈوائزر نے عبوری حکومت کے اقتدار منتقل نہ کرنے سے متعلق پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے فوری بعد اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کر دیا جائے گا اور اس حوالے سے کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
محمد یونس کا کہنا تھا کہ انتخابات کا دن بنگلہ دیش کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن ہوگا۔ قوم دو ووٹ ڈالے گی—ایک نئی حکومت کے انتخاب کے لیے اور دوسرا بنگلہ دیش کے مستقبل کے ریفرنڈم کے طور پر۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابات میں 51 سیاسی جماعتیں اور 2 ہزار سے زائد امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔
امن و امان کے حوالے سے انہوں نے انکشاف کیا کہ پہلی بار سی سی ٹی وی کیمروں، باڈی کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے انتخابی عمل کی نگرانی کی جائے گی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خصوصی اختیارات بھی تفویض کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش 12 فروری 2026ء کو عام انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے، جنہیں ملک کی 55 سالہ تاریخ کے اہم ترین انتخابات قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ انتخابات اگست 2024ء میں وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد منعقد ہو رہے ہیں، جس کے باعث ملکی و عالمی سطح پر ان کی غیر معمولی اہمیت ہے۔



