جیل ملاقاتوں پر پابندی کیوں؟ عطا تارڑ کا دوٹوک مؤقف، پی ٹی آئی پر قومی سلامتی کو سیاست کی نذر کرنے کا الزام

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے واضح کیا ہے کہ جیل قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں ملاقات پر پابندی عین قانون کے مطابق لگائی جاتی ہے اور اس میں کسی قسم کی سیاسی امتیاز نہیں برتا جاتا۔
نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما ملاقاتوں کے بعد باہر آ کر ان معاملات کو ریاست اور قومی اداروں کے خلاف استعمال کرتے ہیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سکیورٹی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر جیل میں کسی ملاقات کے دوران یا اس کے نتیجے میں قواعد کے منافی سرگرمیاں سامنے آئیں تو قانون کے تحت کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
سیاسی رابطوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات کب ہوگی۔ تاہم انہوں نے اس امر کو مثبت پیش رفت قرار دیا کہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت دوبارہ شروع کر دی ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ جمہوری عمل کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اپوزیشن نہ صرف ایوان کی کارروائی میں حصہ لے بلکہ پارلیمانی کمیٹیوں میں بھی فعال کردار ادا کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وفاقی وزیر کا بیان حکومتی مؤقف کو مزید واضح کرتا ہے کہ ملاقاتوں، سکیورٹی اور پارلیمانی امور پر حکومت قانون اور قواعد کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کر رہی ہے۔



