ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں میں استعمال ہونیوالے کچھ بم پھٹ نہیں سکے: ایرانی وزیر خارجہ

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جون 2025 میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں میں استعمال ہونے والے کچھ بم پھٹ نہیں سکے۔
عباس عراقچی نے کہا وہ بم اب بھی ان ایٹمی تنصیبات میں موجود ہیں جو معائنہ کاروں کے لیے سنگین حفاظتی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک حفاظتی، سکیورٹی اور رسائی کے پروٹوکول پر اتفاق نہیں ہو جاتا، ان تنصیبات کا معائنہ ممکن نہیں۔
امریکا نے گزشتہ برس ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے جن میں فردو، نطنز اور اصفہان میں قائم ایٹمی تنصیبات شامل ہیں۔ یہ تنصیبات ایران کی یورینیم افزودگی اور جوہری ٹیکنالوجی کے پروگرام کا مرکز سمجھی جاتی ہیں۔
ان حملوں میں امریکی فضائیہ کے بی-2 اسٹریٹجک بمبار طیاروں کے ذریعے بھاری GBU-57 میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر بم گرائے گئے، جن کا وزن تقریباً 13 ہزار 600 کلوگرام ہے اور انہیں چٹانوں اور مضبوط کنکریٹ کی تہوں کو پار کرکےدھماکا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ان بموں کے علاوہ ایرانی جوہری انفراسٹرکچر سے منسلک اہداف پر ٹوماہاک کروز میزائل بھی داغے گئے۔
ماہرین کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے جن بموں کا حوالہ دیا ہے اگر ان میں GBU-57 بم بھی شامل ہے اور اسے برآمد کرکے ناکارہ بنا لیا جاتا ہے تو ایران کو اس جدید بنکر شکن ہتھیار کی تکنیکی جانچ کا موقع مل سکتا ہے۔
ایسے معائنے کے ذریعے بم کے خول کی موٹائی اور اس میں استعمال ہونے والی دھات کی ساخت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے یہ بم ٹوٹے بغیر زمین میں گہرائی تک پہنچ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اگر اس بم کا اندرونی نظام محفوظ رہا تو اس میں استعمال ہونے والے الیکٹرانک آلات، توانائی کے نظام اور نیویگیشن سینسرز کا بھی معائنہ ممکن ہو سکتا ہے۔



