بنگلہ دیش انتخابات،حسینہ واجد کی جماعت’’مکافات عمل‘‘کا شکار

لاہور(رپورٹ:امدادسومرو)بنگلادیش میں12فروری2026کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں،جو شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے(اگست 2024) کے بعد ملک کے پہلے انتخابات ہیں۔
کیا عوامی لیگ کو انتخابات لڑنے کی اجازت ہے؟
بنگلادیش کی موجودہ عبوری حکومت اور الیکشن کمیشن نے عوامی لیگ کو انتخابات لڑنے سے روک دیا ہے۔مئی2025میں الیکشن کمیشن نے عوامی لیگ کی رجسٹریشن معطل کر دی تھی اورعبوری حکومت نے احتجاج دبانے کے لیے کیے گئے مبینہ اقدامات کی بنیاد پر پارٹی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی تھی۔نومبر2025میں ایک خصوصی ٹربیونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو(ان کی غیر موجودگی میں)سزائے موت سنائی، جس نے قانونی طور پر ان کی پارٹی کی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا۔
اگرچہ پارٹی کے نشان "کشتی” پر کوئی امیدوار نہیں لڑ رہا،لیکن رپورٹس کے مطابق پارٹی کے کچھ ارکان آزاد امیدواروں کے طور پر یا پسِ پردہ دیگر چھوٹی پارٹیوں کے ذریعے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عوامی لیگ کے بغیر انتخابات کی ساکھ ہوگی؟
ناقدین کا کہنا ہے کہ ملک کی سب سے پرانی اور بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک کو باہر نکالنا انتخابات کی جمہوری ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔اسے "یکطرفہ” مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں بی این پی(BNP)اورجماعت اسلامی کے درمیان اصل مقابلہ ہے۔
دوسری طرف، عبوری حکومت کا موقف ہے کہ یہ انتخابات 15 سال بعد”پہلے حقیقی اور آزادانہ”انتخابات ہیں،کیونکہ ماضی میں عوامی لیگ پر دھاندلی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔اس بار50سے زائد جماعتیں اور1700کے قریب امیدوار میدان میں ہیں۔
حالیہ سروے بتاتے ہیں کہ عوام میں جوش و خروش پایا جاتا ہے کیونکہ ووٹرز کو لگتا ہے کہ طویل عرصے بعد ان کا ووٹ گنتی میں آئے گا۔اقلیتی برادریوں(خصوصاً ہندوؤں)میں عدم تحفظ کا احساس بھی پایا جاتا ہے۔
انتخابات کا نیا ڈھانچہ
اس بار صرف الیکشن ہی نہیں ہو رہا، بلکہ ووٹرز سے ایک "ریفرنڈم” بھی لیا جا رہا ہے جس کا نام "جولائی نیشنل چارٹر” ہے۔ اس کا مقصد دستور میں بڑی تبدیلیاں لانا ہے.وزیراعظم کی مدتِ اقتدار کو10سال(دو ٹرمز)تک محدود کرنا ہے۔ملک میں دو ایوانی پارلیمنٹ(Bicameral Legislature)بنانا۔
عوامی لیگ کی غیر موجودگی میں ان انتخابات کو مکمل "جامع” (Inclusive) تو نہیں کہا جا سکتا، لیکن اگر ووٹنگ پرامن رہی اور ٹرن آؤٹ زیادہ رہا، تو بی این پی یا جماعت اسلامی کی بننے والی نئی حکومت کو داخلی طور پر ایک نئی قانونی حیثیت مل جائے گی۔
کیا آپ ان انتخابات میں بی این پی اور جماعت اسلامی کے انتخابی منشور یا ان کے بھارت اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے مزید جاننا چاہتے ہیں؟
بی این پی اور جماعت اسلامی کا منشور
عوامی لیگ کی غیر موجودگی میں اب اصل مقابلہ خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان ہے۔
بی این پی کا ہدف بنیادی وعدہ "جمہوریت کی بحالی” اور معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانا ہے۔ وہ وزیراعظم کے اختیارات کو کم کرنے اور ملک میں دو ایوانی پارلیمنٹ (Bicameral System) متعارف کروانے کے حامی ہیں۔
جماعت اسلامی کا کردار:جماعت اسلامی اس بار ایک بڑی قوت بن کر ابھری ہے۔ ان کا زور اسلامی اقدار، سماجی انصاف اور کرپشن کے خاتمے پر ہے۔ وہ عبوری حکومت کی جانب سے کی جانے والی آئینی اصلاحات کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔
پاکستان کے ساتھ تعلقات: عوامی لیگ کے دور میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کافی سرد مہری رہی تھی۔ تاہم، بی این پی اور جماعت اسلامی کے برسرِ اقتدار آنے سے پاکستان کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات میں بہتری کا قوی امکان ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی اور ویزا پالیسی میں نرمی پر پہلے ہی بات چیت شروع ہو چکی ہے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات: شیخ حسینہ واجد کو بھارت کی بھرپور حمایت حاصل تھی، اس لیے موجودہ عبوری حکومت اور آنے والی ممکنہ قیادت بھارت کے حوالے سے تھوڑی محتاط ہے۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ نئی حکومت کے آنے سے وہاں اس کا اثر و رسوخ کم ہو سکتا ہے، خاص طور پر سیکیورٹی اور ٹرانزٹ کے معاملات پر۔
بنگلادیش میں پرسوں (12 فروری) ہونے والے یہ انتخابات نہ صرف اس ملک بلکہ پورے خطے بشمول پاکستان کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
بنگلادیش کا پارلیمانی نظام کافی دلچسپ ہے، جو بنیادی طور پر برطانوی "ویسٹ منسٹر” ماڈل پر مبنی ہے لیکن اس میں کچھ مقامی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔
بنگلادیش کے پارلیمانی ڈھانچے کی تفصیلات درج ذیل ہیں
پارلیمنٹ کا نام اور ڈھانچہ
بنگلادیش کی پارلیمنٹ کو "جاتیہ سنسد” (Jatiya Sangsad) کہا جاتا ہے۔
یہ ایک ایوانی (Unicameral) مقننہ ہے، یعنی اس کا صرف ایک ہی ہاؤس ہے (پاکستان کی طرح قومی اسمبلی اور سینٹ کا دہرا نظام وہاں فی الحال نہیں ہے، حالانکہ نئی اصلاحات میں اسے بدلنے کی تجویز زیرِ غور ہے)۔
پارلیمنٹ کی کل 350 نشستیں ہیں۔
نشستوں کی تقسیم
ان 350 نشستوں کی تقسیم دو طرح سے ہوتی ہے:
300 نشستیں: ان پر براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے انتخاب ہوتا ہے۔ پورے ملک کو 300 حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
50 نشستیں: یہ نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ ان پر براہِ راست ووٹنگ نہیں ہوتی، بلکہ عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے یہ نشستیں انہیں الاٹ کر دی جاتی ہیں۔
رکنِ پارلیمنٹ کا لقب
بنگلادیش میں پارلیمنٹ کے رکن کو عام طور پر درج ذیل ناموں سے پکارا جاتا ہے:
بنگالی میں: اسے "سنسد سدسیہ” (Sansad Sadasya) کہا جاتا ہے۔
انگریزی میں: اسے MP (Member of Parliament) کہا جاتا ہے۔
بنگلادیش میں بھی پاکستان کی طرح "فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ” (First-past-the-post) نظام رائج ہے۔ یعنی جس امیدوار کو اپنے حلقے میں سب سے زیادہ ووٹ ملتے ہیں، وہ فاتح قرار پاتا ہے، چاہے اسے کل ووٹوں کا 50 فیصد ملا ہو یا نہیں۔
اہم نوٹ: جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، 12 فروری کے انتخابات کے ساتھ ایک ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے جس کا مقصد پارلیمنٹ کو دو ایوانی (Bicameral) بنانا ہے۔ اگر یہ منظور ہو گیا تو مستقبل میں بنگلادیش میں بھی پاکستان کی طرح ایک "بالائی ایوان” (Upper House) بن جائے گا۔



