بلوچستان کی بچیاں یا تو بچے پیدا کر رہی ہیں یا بندوقیں اٹھا رہی ہیں، سینیٹر ثمینہ زہری

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں بلوچستان میں بڑھتی آبادی اور سماجی بحران پر تشویشناک حقائق سامنے آ گئے۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے کی، جس میں نیشنل پاپولیشن اینڈ ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل 2026 پر تفصیلی بحث ہوئی۔
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ “بلوچستان کی بچیاں یا تو بچے پیدا کر رہی ہیں یا بندوقیں اٹھا رہی ہیں”، آبادی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے اور پاپولیشن پالیسی مرتب کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2021 میں ٹاسک فورس بنی لیکن تاحال کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔
کمیٹی رکن روبینہ خالد نے کہا کہ آبادی میں مسلسل اضافہ ہر مسئلے کی جڑ ہے، بلوچستان میں دہشت گردی میں کم عمر بچیوں کے استعمال کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “لڑکوں کی خواہش میں لڑکیاں پیدا کی جا رہی ہیں” جو ایک خطرناک سماجی رجحان ہے۔
روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ برتھ کنٹرول ایک ٹیبو ہے جس پر کھل کر بات نہیں کی جاتی، جبکہ سینیٹر ثمینہ زہری نے زور دیا کہ بل کو اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل وسیع مشاورت ضروری ہے تاکہ بعد میں اعتراضات نہ اٹھیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس بل پر اوپن ڈیبیٹ ہونی چاہیے کیونکہ موجودہ حالات میں نئی نسل کیلئے جاب مارکیٹ سکڑتی جا رہی ہے۔
اجلاس کے دوران ایک موقع پر سینیٹر ثمینہ زہری نے ایک مولانا کے بیان کا حوالہ دیا کہ وہ سولہ سالہ بچی سے شادی کریں گے، جس پر چیئرمین کمیٹی نے ہنستے ہوئے کہا کہ “یہ مولانا صاحب کی دل میں دبی خواہش تھی”۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آبادی کنٹرول کے معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل اور تمام سیاسی جماعتوں کے ممبران کی مشترکہ میٹنگ بلائی جائے گی، جبکہ ہیلتھ اور ہیومن رائٹس کمیٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
روبینہ خالد نے کہا کہ جسمانی اور ذہنی کمزوری (Stunting) کے ساتھ بچے پیدا ہو رہے ہیں، جس پر ڈی جی ہیلتھ نے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ٹاسک فورسز اس مسئلے پر کام کر رہی ہیں۔



