بدین میں زمینی تنازع شدت اختیار کر گیا، بااثر افراد پر جعلی دستاویزات کے ذریعے قبضے کی کوشش کا الزام

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن / جانو ڈاٹ پی کے)بدین کے علاقے تلہار کے گاؤں اسماعیل راہوکھڑو میں زمینی تنازع کے خلاف متاثرہ خاندان نے بدین پریس کلب کے سامنے احتجاج کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسماۃ خدیجہ، ان کے شوہر غلام علی راہوکھڑو، محمد حسن، مسماۃ ساران اور محمود موسیٰ نے الزام عائد کیا کہ ابراہیم راہوکھڑو، اشرف، جبار، میر مرتضیٰ اسماعیل راہوکھڑو اور دیگر افراد زبردستی ان کی زرعی زمین پر قبضہ کرنے اور جعلی دستاویزات کے ذریعے ملکیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متاثرہ فریقین نے بتایا کہ ان کے آباؤ اجداد کی مشترکہ کھاتے میں 55 ایکڑ زرعی زمین ہے جس کے تمام قانونی کاغذات ان کے پاس موجود ہیں، اس کے باوجود بااثر مخالف فریق ناجائز طریقوں سے زمین ہتھیانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ زمینی معاملات کے سلسلے میں انہیں مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں، مگر انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ مخالفین اپنے گھروں کو خود آگ لگا کر انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

متاثرہ دیہاتیوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے حقوق کا تحفظ نہ کیا گیا تو وہ سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

پریس کانفرنس کے دوران متاثرہ خاندان نے سندھ حکومت، سیشن جج بدین، ضلعی انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر بدین، ایس ایس پی بدین اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ زمینی تنازع کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، جعلی دستاویزات کے خلاف کارروائی کی جائے اور اصل مالکان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button