ننگرپارکر میں کارونجھر کی کٹائی کے خلاف 75ویں روز بھی بھوک ہڑتال، احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا

مٹھی(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)سندھ کی خوبصورتی کی علامت ننگرپارکر میں واقع کارونجھر پہاڑ کی کٹائی کے خلاف پارکر کے عوام سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔
کارونجھر کی کٹائی کے خلاف کارونجھر سجاگ فورم کی جانب سے گزشتہ روز 75ویں دن بھی علامتی بھوک ہڑتال کے ذریعے احتجاج جاری رکھا گیا۔
کارونجھر سجاگ فورم کے رہنماؤں اللہ رکھیو کھوسو، غلام مصطفیٰ دل، پریم کولہی اور دیگر نے علامتی بھوک ہڑتال کیمپ میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کارونجھر پہاڑ پارکر کے لوگوں کی زندگی کا ذریعہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس پہاڑ میں مذہبی مقدس مقامات بھی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کارونجھر پہاڑ میں رہنے اور پرورش پانے والے پرندوں اور دیگر جانداروں کے لیے یہ ایک محفوظ پناہ گاہ ہے۔
علامتی بھوک ہڑتال کے دوران کارونجھر سجاگ فورم کے رہنماؤں اور پارکر کے دیہاتیوں موہن مل، تیجارام میگھواڑ، پریم کولہی، شوکت کھوسو، نواز علی کھوسو اور دیگر نے احتجاجی مظاہرہ کیا، دھرنا دیا اور نعرے بازی کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ کارونجھر ہمارے جینے اور روزگار کا ذریعہ ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ کارونجھر سندھ کی شناخت ہے، اگر یہ پہاڑ نہ ہوتا تو پارکر کے لوگ پینے کے پانی کے لیے بھی پریشان ہوتے۔
احتجاج کے دوران رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت عدالت میں دائر اپنی پٹیشن واپس لے اور کارونجھر پہاڑ کو فوری طور پر قومی ورثہ قرار دے کر ورلڈ ہیریٹیج فہرست میں شامل کیا جائے۔



