ٹھٹھہ میں تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ہیرٹیج واک، محققین، تاریخ دانوں، غیر ملکی ماہرین او میڈیا نمائندوں کی بڑی شرکت

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے )ٹھٹھہ ضلعی انتظامیہ نے آرکیالوجی اور محکمہ ثقافت سندھ کے تعاون سے شہر کے تاریخی اور تہذیبی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ہیرٹیج واک کا اہتمام کیا، جس میں ملکی و غیر ملکی محققین، تاریخ دان، سول سوسائٹی کے نمائندے، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور وی لاگرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر بھنبور اور مکلی کے تاریخی مقامات پر تحقیق کرنے والے فرانس اور اٹلی کے نامور ماہرین بھی موجود تھے، جن میں پروفیسر ڈاکٹر اسٹفانی پرادینس، ہیلینا ماری رینل، اولیویئر اونیزیم، بیٹی لیا ماری رامی اور لیونارڈو اسکوئلونی شامل تھے۔ ہیرٹیج واک کے دوران شرکاء نے مرزا جانی بیگ، طغرل بیگ، مرزا عیسیٰ خان ترخان، جام جمن جتی، سلطان ارغون، پرانی جامع مسجد اور مدرسہ حماد جمالی سمیت اہم تاریخی مقامات کا دورہ کیا، جہاں انہیں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔
ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت نے کہا کہ ٹھٹھہ سندھ کی سنہری تاریخ کا اہم مرکز ہے اور تاریخی مقامات کے تحفظ، بحالی اور تشہیر کی اشد ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل اپنی تاریخ اور تہذیب سے جڑی رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیرٹیج واک جیسے پروگرام سیاحت کو فروغ دیتے ہیں اور علاقے کی معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
تقریب کے دوران کیوریٹر غیور عباس شاہ نے تاریخی مقامات کی تعمیراتی خصوصیات اور علمی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ غیر ملکی ماہرین نے بھی ٹھٹھہ، مکلی اور بھنبور کے تاریخی مقامات میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور اس خطے کو اسلامی و تہذیبی ورثے کا اہم مرکز قرار دیا۔
ہیرٹیج واک کے اختتام پر مہمانوں کے اعزاز میں تقریب منعقد کی گئی، جس میں ثقافتی میوزک شو بھی پیش کیا گیا۔ شرکاء نے ایسے اقدامات کو تاریخی ورثے کی شناخت، تحقیق اور تحفظ کے لیے نہایت اہم قرار دیا اور مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کے تسلسل پر زور دیا۔



