سکھر بیراج کی ٹیل کی آبپاشی سب ڈویژن خيرپور گمبومیں نہری پانی نہ پہنچ سکا

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)بدین ضلع کی سکھر بیراج کی ٹیل کی آبپاشی سب ڈویژن خيرپور گمبومیں ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود نہری پانی نہ پہنچ سکا، گندم، سرسوں اور گنے کی فصلیں تباہی کے دہانے پرپہنچ گئیں کے خيرپور گمبوہ ملکانی شریف سمیت دیگر علاقوں میں زرعی زمینیں شدید پانی کی قلت کا شکار ہو گئی ہیں جہاں کی مختلف شاخوں میں شیڈول کے مطابق پانی کی فراہمی نہ ہونے کے باعث زرعی بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے مقامی آبادگاروں کے مطابق پانی کی سالانہ بندی کے بعد 21 جنوری کو نہروں میں پانی چھوڑا جانا تھاجوکہ تاحال نہیں چھوڑا گیا جس کی وجہ سے پانی کی بندی کا دورانیہ ڈیڑھ ماہ کے قریب پہنچ چکاہے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ پانی کی سالانہ بندی کا دورانیہ غیر معمولی طور پر طول پکڑ چکا ہے جسے وہ مصنوعی طوالت قرار دے رہے ہیں اس طویل بندش کے باعث گندم سرسوں اور گنے کی فصلیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں کئی علاقوں میں گندم کی فصل زرد پڑ چکی ہے جبکہ متعدد کھیتوں میں پودے سوکھنے لگے ہیں آبادگاروں کے مطابق اگر فوری طور پر پانی فراہم نہ کیا گیا تو ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصل مکمل طور پر تباہ ہونے کا خدشہ ہے
اس صورتحال پر کاشتکار رہنماؤں فیاض شاہ راشدی، علی بخش دلوانی اور طارق محمد آرائیں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکھر بیراج کے آخری سرے پر واقع بدین ضلع کی شاخوں کے ساتھ مسلسل ناانصافی کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ پانی کی غیر ضروری اور طویل بندش نے کسانوں کو معاشی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہےمقامی زمینداروں نے بتایا کہ بیج، کھاد، زرعی ادویات اور ڈیزل پر پہلے ہی بھاری اخراجات ہو چکے ہیں اور اب پانی نہ ملنے کے باعث انہیں کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے ہاری طبقہ بھی شدید پریشانی میں مبتلا ہے کیونکہ فصلیں خراب ہونے کی صورت میں ان کا سال بھر کا روزگار متاثر ہوگا کاشتکاروں نے آبپاشی حکام پر غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نہروں میں پانی چھوڑا جائے، پانی کی بندش کی وجوہات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور متاثرہ کسانوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ فوری حل نہ ہوا تو احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی
کاشتکاروں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ زرعی معیشت کا انحصار پانی کی بروقت فراہمی پر ہے اور مسلسل تاخیر سے نہ صرف مقامی کسان بلکہ ملکی غذائی پیداوار بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے



