کراچی: سندھ اسمبلی کی میزبانی میں سی پی اے ایشیا ریجنل کانفرنس، پارلیمانی نظام، جمہوری اقدار اور جدید عالمی چیلنجز پر سیشنز

کراچی (جانوڈاٹ پی کے)سندھ اسمبلی کی میزبانی میں ساتویں سی پی اے ایشیا ریجنل اور دوسری مشترکہ سی پی اے ایشیا و جنوبی مشرقی ایشیا ریجنل کانفرنس 2026 کے موقع پر آج “پارلیمانی نظام، جمہوری اقدار اور جدید عالمی چیلنجز” کے موضوع پر اہم سیشنز منعقد ہوئے۔

نجی ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس کے دوسرے روز کے سیشنز میں متوازی (Parallel) بریک آؤٹ سیشنز، پلینری سیشنز اور اعلیٰ سطحی خطابات شامل تھے۔

پہلے سیشن کا عنوان ”پارلیمانی تعلیم: روزمرہ زندگی میں جمہوری اصولوں کو اپنانا“، دوسرے سیشن کا عنوان ”پرامن اور ہم آہنگ معاشروں کے لیے پارلیمان کا کردار: جعلی خبروں، مصنوعی ذہانت اور غلط معلومات کا پھیلاؤ“، تیسرے سیشن کا عنوان ”بقا کے لیے قانون سازی: موسمیاتی تبدیلی اور متاثرہ طبقات“، چوتھے سیشن کا عنوان ”پارلیمان کو مضبوط بنانا: پارلیمانی جوابدہی کے ذریعے ذمہ دار حکمرانی کو یقینی بنانا“ جبکہ دوسرے پلینری سیشن کا عنوان ”جنس، ٹیکنالوجی اور اعتماد: خواتین رہنماؤں کو آن لائن تشدد اور ڈیجیٹل ہراسانی سے تحفظ“ تھا۔

پارلیمانی تعلیم اور جمہوری اقدار کے فروغ سے متعلق سیشن کی نظامت رکن سندھ اسمبلی طحا احمد خان نے کی، جبکہ سری لنکا کے ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر رضوی صالح، رکن قومی اسمبلی مہتاب اکبر راشدی، خواجہ اظہار الحسن، رکن قومی اسمبلی شمعون اشرف ہاشمی اور رکن پنجاب اسمبلی ذوالفقار علی شاہ سیشن کے پینلسٹ تھے۔

اسی دوران دوسرے سیشن میں جعلی خبروں، مصنوعی ذہانت اور غلط معلومات پر گفتگو کی گئی، جس کی نظامت رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے کی۔ اس سیشن میں مالدیپ کے ڈپٹی اسپیکر احمد ناظم، سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن، رکن بلوچستان اسمبلی فرح عظیم شاہ، رکن پنجاب اسمبلی سارہ احمد، رکن قومی اسمبلی بیرسٹر دانیال اور رکن خیبرپختونخوا اسمبلی آصف خان نے شرکت کی۔

مالدیپ کے ڈپٹی اسپیکر احمد ناظم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک نے انتخابات اور عوامی رائے کو متاثر کیا ہے۔ ٹیکنالوجی ایک اوزار ہے، خطرہ نہیں اور اس کے غلط استعمال کو روکنا پارلیمان کی ذمہ داری ہے۔ مالدیپ قانون سازی، شفافیت اور میڈیا نگرانی کے ذریعے جعلی معلومات اور ڈیجیٹل ہراسانی سے تحفظ فراہم کر رہا ہے۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک کے ذریعے تیار کیا گیا جعلی مواد عوامی رائے اور معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ حکومت اور وفاقی ادارے، جیسے ایف آئی اے، مواد کی نگرانی اور بروقت ردعمل کو یقینی بنا رہے ہیں، جبکہ صحافیوں کو صرف تصدیق شدہ خبریں شائع کرنی چاہئیں اور عوام میں شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔

پاکستان کے پارلیمانی سیکریٹری دانیال چوہدری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک عالمی سطح پر معلومات کی درستگی اور عوامی اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں۔ پیکا ایکٹ کے تحت نگرانی اور آگاہی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ وزارتیں عالمی تعاون سے خودکار سافٹ ویئر تیار کر رہی ہیں تاکہ جعلی ویڈیوز کی نشاندہی اور جمہوریت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

پنجاب چائلڈ رائٹس اتھارٹی کی چیئرپرسن سارہ احمد نے کہا کہ موجودہ قوانین مصنوعی ذہانت اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بچوں کو پہنچنے والے نقصانات سے بچانے کے لیے ناکافی ہیں۔ آن لائن گیمز، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے جنسی استحصال اور معلومات کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جس کے لیے قانون میں ترامیم کے ذریعے مضبوط تحفظ کی ضرورت ہے۔

رکن بلوچستان اسمبلی فرح عظیم شاہ نے کہا کہ افواہیں، جعلی خبریں اور ڈیپ فیک عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کا حل خوف یا سنسرشپ نہیں بلکہ شفاف، تصدیق شدہ اور بروقت معلومات کی فراہمی ہے۔ مقامی قیادت، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کے ذریعے اعتماد قائم ہوتا ہے، جبکہ سیاسی قیادت کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

رکن خیبرپختونخوا اسمبلی آصف خان نے کہا کہ جعلی معلومات اور ڈیپ فیک کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار تعلیم اور شعور ہے۔ پیکا ایکٹ کے تحت تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ بروقت اور مؤثر ردعمل کے ذریعے نقصانات کو قابو میں کیا جا سکتا ہے۔ پارلیمان اور عوام کو فوری آگاہی دینا ضروری ہے۔

سوالات اور جوابات کے دوران سندھ اسمبلی کے اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ پارلیمان کا بنیادی فریضہ قانون سازی ہے، تاہم نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے بچانے کے لیے تعلیم نہایت ضروری ہے۔ اسکولوں اور والدین، خاص طور پر ماؤں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو شعور اور تربیت فراہم کریں تاکہ انہیں مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کیا جا سکے۔

دوسرے متوازی سیشن میں پارلیمانی احتساب اور ایگزیکٹو کو جوابدہ بنانے پر بحث کی گئی، سیشن کی صدارت رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر نے کی، رکن سندھ اسمبلی سعدیہ جاوید نے تعارفی خطاب کیا، جبکہ سینیٹر سید مسرور احسن، رکن قومی اسمبلی محمد مبین عارف، رکن پنجاب اسمبلی سید علی حیدر گیلانی، احمد اقبال چوہدری اور رکن خیبرپختونخوا اسمبلی آصف خان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سینئر سیاستدان سید نوید قمر نے کہا کہ پارلیمان کو مضبوط بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ بجٹ اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے ذریعے حکومت کا احتساب ممکن ہے۔ ارکان کو اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے مالی اور پالیسی فیصلے شفاف اور جوابدہ اندازمیں کرنے چاہئیں۔

احمد اقبال چوہدری نے کہا کہ پنجاب کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے مقامی آڈٹ اور 21 رپورٹس مکمل کرکے گزشتہ بیک لاگ ختم کیا ہے۔ کمیٹیوں کو کارکردگی اور پالیسی کی نگرانی کے لیے مؤثر اختیارات اور ذرائع استعمال کرنے چاہئیں۔

سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ جمہوریت عوام کو طاقت اور حقوق فراہم کرتی ہے۔ 1973 کے آئین اور 18ویں ترمیم کے ذریعے صدارتی اور مقامی اختیارات عوام کو منتقل کیے گئے۔ پارلیمان شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط بنا کر عوام کو بااختیار بنانے کا اہم ذریعہ ہے۔

محمد مبین عارف نے کہا کہ پارلیمان عوامی فیصلوں کا مرکز ہے اور حکومت کی نگرانی کرتی ہے۔ فنانس بل پر پہلی بار کمیٹی میں شق وار بحث ہوئی اور 35 سے زائد ترامیم منظور کی گئیں۔ قانون سازی کے ساتھ ساتھ عملدرآمد، نگرانی اور صوبائی قوانین پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

سید علی حیدر گیلانی نے کہا کہ جمہوریت میں اعتماد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) سرکاری احتساب کا بنیادی ادارہ ہے۔ رولز آف پروسیجر میں ترامیم کے بعد PAC کو قومی اسمبلی کے برابر اختیارات حاصل ہو گئے ہیں اور عوامی درخواستوں کو سنبھالنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ مضبوط PAC شفافیت اور بہتر حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور کمزور طبقات کے تحفظ سے متعلق سیشن منعقد ہوا، جس کی صدارت سینیٹر شیری رحمان نے کی۔ اس سیشن میں رکن قومی اسمبلی تمکین اختر نیازی، رکن پنجاب اسمبلی سید ذوالفقار شاہ، رکن سندھ اسمبلی قاسم سومرو، رکن پنجاب اسمبلی محمد احمد خان لغاری اور دیگر نے شرکت کی۔

سینیٹر اور ماحولیاتی امور کی ماہر شیری رحمان نے موسمیاتی تبدیلی اور مستقبل کی پارلیمانوں کے موضوع پر سیشن کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تباہی عوام، حکومتوں اور ایشیا میں کمزور طبقات کو متاثر کر رہی ہے۔ پارلیمان کے اراکین کو اس فورم کو عوامی عمل کے موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے اور رابطوں کے خلا کو ختم کرنا ضروری ہے۔ نوجوان مستقبل کے وارث ہیں جبکہ ماضی کی نسلوں نے بحران پیدا کیا۔ 2023 دنیا کا سب سے گرم ترین سال رہا اور سب سے زیادہ متاثر سماجی درجہ بندی کے نچلے طبقات ہوئے۔ پاکستان میں 2022 کے سیلاب اور کم کاربن فٹ پرنٹ رکھنے کے باوجود چھوٹے ایشیائی ممالک بھی شدید خطرے سے دوچار ہیں۔

پلینری سیشن میں خواتین رہنماؤں کے خلاف آن لائن تشدد، ڈیجیٹل ہراسانی اور جعلی خبروں پر ایک اہم سیشن منعقد ہوا۔ سیشن کی موڈریٹرز رکن سندھ اسمبلی سمیتا افضال سید اور ندا کھوڑو تھیں، جبکہ برطانیہ کی پروفیسر جین راسکو، رکن پنجاب اسمبلی اسما احتشام الحق، ڈاکٹر فوزیہ حمید، یو این ویمن کے نمائندے جمشید ایم قاضی، رکن قومی اسمبلی شازیہ مری اور سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے اظہارِ خیال کیا۔

رکن سندھ اسمبلی سمیتا افضال سید نے جینڈر، ٹیکنالوجی اور اعتماد کے موضوع پر سیشن کی نظامت کی۔ سیشن میں خواتین رہنماؤں کے خلاف آن لائن تشدد، ڈیجیٹل ہراسانی اور غلط معلومات سے تحفظ پر تفصیلی بحث کی گئی۔ قانون سازی، میڈیا کی ذمہ داری اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے محفوظ ڈیجیٹل ماحول قائم کرنے پر زور دیا گیا۔

پلینری سیشن میں پروفیسر جین راسکو نے کہا کہ خواتین رہنماؤں کو آن لائن تشدد، ہراسانی اور جعلی خبروں کا سامنا ہے۔ ثقافتی تبدیلی، آگاہی، تربیت اور مرد اراکین کی مشترکہ حمایت ضروری ہے۔ قانون سازی اور پالیسی اصلاحات کے ذریعے تحفظ اور معاون نیٹ ورکس قائم کیے جانے چاہئیں۔

پلینری سیشن میں رکن پنجاب اسمبلی اسما احتشام الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین رہنماؤں کے خلاف آن لائن تشدد، ہراسانی، ڈیپ فیک اور جھوٹے الزامات محض صنفی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ تحفظ اور مساوی مواقع انصاف کی بنیادی ضرورت ہیں۔ ہراسانی سے متعلق بل پنجاب اسمبلی میں جمع کرایا جا چکا ہے۔

پلینری سیشن میں یو این ویمن پاکستان کے نمائندے جمشید ایم قاضی نے کہا کہ خواتین رہنماؤں کے خلاف آن لائن تشدد ایک منظم اور منصوبہ بند ہتھیار بن چکا ہے۔ 70 فیصد خواتین اور انسانی حقوق کے کارکنان آن لائن ہراسانی کا شکار ہیں۔ ڈیپ فیک، جعلی مہمات اور مصنوعی ذہانت خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں اور مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے۔

پلینری سیشن میں کو-موڈریٹر ندا کھوڑو نے نظامت کی، جبکہ رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا میں قانون سازی کا مؤثر جواب دینا لازم ہو چکا ہے۔ خواتین رہنما آن لائن ہراسانی، جھوٹے الزامات، منظم بدنامی مہمات اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مواد کا سامنا کر رہی ہیں۔ 2024 کے عام انتخابات کے دوران 84 کیسز میں خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ شازیہ مری نے کہا کہ آن لائن تشدد محض ورچوئل نہیں بلکہ اس کے ذاتی، سیاسی اور نہایت سنگین اثرات ہوتے ہیں اور انصاف کے حصول میں تاخیر اور مشکلات پیش آتی ہیں۔

رکن قومی اسمبلی تمکین اختر نیازی نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی زندگی کو متاثر کر رہی ہے اور پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ مؤثر قوانین، جدید ٹیکنالوجی اور عملی انتظام کے ذریعے پانی کے تحفظ اور پائیداری کو یقینی بنانا ضروری ہے اور عوام کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

سابق سینیٹر اور وفاقی وزیر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ٹیکنالوجی خواتین رہنماؤں کے لیے آواز مضبوط کرنے، قیادت کے مواقع پیدا کرنے، شفافیت، بہتر سروس ڈیلیوری اور عوامی شمولیت کے لیے مفید ہے، تاہم اسی ٹیکنالوجی کو غلط معلومات، منظم جھوٹ اور ڈیجیٹل ہراسانی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 9 بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

اس سیشن کے اختتام پر سندھ اسمبلی کے اسپیکر سید اویس قادر شاہ اور وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی جانب سے خواتین رہنماؤں اور ماہرین کو شیلڈز پیش کی گئیں۔ شیلڈ حاصل کرنے والوں میں جین راسکو، اسما احتشام الحق، جمشید ایم قاضی، ڈاکٹر فوزیہ حمید، شازیہ مری، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سمیتا افضل سید اور ندا کھوڑو شامل ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button