چین میں اڑنے والی ٹیکسی کا دور شروع،2کمپنیوں نے کمرشل لائسنس حاصل کر لیا

بیجنگ(جانو ڈاٹ پی کے)چین نے دنیا میں پہلی بار باقاعدہ طور پر اڑنے والی ٹیکسی(Flying Taxi) کے کمرشل آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ دو چینی کمپنیوں نے خود مختار مسافر ڈرون کے لیے چین کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (CAAC) سے کمرشل آپریٹنگ لائسنس حاصل کر لیا ہے، جو اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک تاریخی قدم ہے۔
یہ اڑنے والی ٹیکسی جدید ڈرون ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور مکمل طور پر خودکار نظام سے چلتی ہے، جس میں انسانی پائلٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس منصوبے کا مقصد شہری علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور شہری نقل و حمل کو زیادہ تیز اور محفوظ بنانا ہے۔
چینی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ سروس مخصوص شہروں میں محدود راؤٹس پر فراہم کی جائے گی، لیکن مستقبل میں پورے ملک میں اس ٹیکسی نیٹ ورک کو پھیلانے کا منصوبہ ہے۔ یہ ایوی ایشن سیکٹر میں جدت اور خودکار نظاموں کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے، جس سے دنیا بھر کے دیگر ممالک کے لیے بھی ماڈل فراہم ہوگا۔
🔴 چین نے باضابطہ طور پر دنیا میں اڑنے والی ٹیکسی کے دور کا آغاز کر دیا ہے۔
▪️ دو چینی کمپنیوں نے خود مختار مسافر ڈرون کے لیے چین کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن سے کمرشل آپریٹنگ لائسنس حاصل کیے ہیں۔ pic.twitter.com/brKnlUYSNw
— RTEUrdu (@RTEUrdu) February 5, 2026
ماہرین کے مطابق، اڑنے والی ٹیکسی نہ صرف شہری نقل و حمل کو بدل سکتی ہے بلکہ ایمرجنسی سروسز، لاجسٹکس اور دیگر شعبوں میں بھی اس کے استعمال کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
چین کا یہ اقدام دنیا کے دیگر ممالک کے لیے اڑنے والی ٹیکسی کی کمرشل سروس کے آغاز کا راستہ ہموار کرنے والا ثابت ہو سکتا ہے، اور مستقبل قریب میں شہری فضائی نقل و حمل ایک حقیقت بننے جا رہی ہے۔



