اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن کابینہ کو بھیج دیے، جدید سیکیورٹی فیچرز شامل

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کے اجرا کی تجویز کابینہ کو بھجوا دی ہے، جس میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے بورڈ نے تمام نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن فائنل کر کے وفاقی حکومت کو منظوری کے لیے ارسال کر دیے ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اب نئے کرنسی نوٹس کے اجرا کی حتمی منظوری وفاقی حکومت نے دینا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تمام مالیت کے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن تبدیل کیے جا رہے ہیں اور نئے نوٹس کے ڈیزائن اور اجرا میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پلاسٹک کرنسی نوٹس کو بھی تجرباتی بنیادوں پر متعارف کروانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔
اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ پانچ ہزار روپے کے نوٹ کے معاملے کو چھیڑنے سے معیشت میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے، جس پر چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ جب گورنر اسٹیٹ بینک واضح کر چکے ہیں کہ پانچ ہزار کا نوٹ ختم نہیں ہو رہا تو اس معاملے پر بات بھی ختم ہو گئی۔
اجلاس میں بینکوں کی جانب سے اے ٹی ایم کے ذریعے رقوم نکلوانے اور جمع کروانے پر ایس ایم ایس چارجز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صارفین سے ایس ایم ایس الرٹس پر چارجز وصول کیے جا رہے ہیں، جس پر گورنر اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی کہ جو ایس ایم ایس لازمی نوعیت کے ہوتے ہیں ان پر کوئی چارجز وصول نہیں کیے جاتے، جبکہ اضافی سروسز سے متعلق پیغامات پر چارجز صارفین سے لیے جاتے ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ یہ چارجز براہِ راست ٹیلی کام کمپنیوں کو ادا کیے جاتے ہیں اور اسٹیٹ بینک اس مد میں کوئی رقم وصول نہیں کرتا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دو برسوں میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ایس ایم ایس چارجز 0.04 روپے سے بڑھ کر چار روپے سے زائد ہو چکے ہیں۔ اس پر چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اب انہیں مزید تفتیش کے لیے ٹیلی کام کمپنیوں کو طلب کرنا پڑے گا تاکہ واضح ہو سکے کہ کون کتنا چارج وصول کر رہا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے فروغ سے صارفین کو نقصان نہیں ہونا چاہیے۔
اجلاس میں ایک رکن نے بینک اکاؤنٹ کھولنے کے دوران کثیر تعداد میں فارمز پر دستخط لینے کا معاملہ بھی اٹھایا۔
مزید برآں کمیٹی کے ایک رکن نے چین، روس اور دیگر ممالک کے ساتھ ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں تجارت سے متعلق سوال کیا، جس پر گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ چین کے ساتھ چینی کرنسی میں تجارت پہلے سے ہو رہی ہے، تاہم یو اے ای کے ساتھ کرنسی رول اوور سے متعلق سوال کو انہوں نے فارن آفس کا معاملہ قرار دیتے ہوئے جواب دینے سے گریز کیا۔



