بھارت نے فلسطین کے حق میں اسٹیکرز لگانے والے برطانوی سیاحوں کو ملک بدر کردیا

ممبئی(جانوڈاٹ پی کے)ایک بار پھر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی نام نہاد دعویدار بھارت کی اسرائیل نواز مودی سرکار کا چہرہ بے نقاب ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 21 جنوری کو بھارت پہنچنے والا برطانوی سیاح جوڑا جن جن تاریخی اور سیاحتی مقام پر گیا، فلسطین پر اسرائیلی مظالم اجاگر کرتا گیا۔
جذبہ انسانیت سے لبریز برطانوی سیحون لیوس گیبریل ڈی اور انیوشی ایما کرسٹین نے ریاست راجستھان کے تاریخی شہر پُشکر میں اسرائیل مخالف اسٹیکرز لگائے۔
ان اسٹیکرز پر ’’فلسطین کو آزاد کرو‘‘ اور ’’بائیکاٹ اسرائیل‘‘ تحریر تھا۔ کچھ پر فلسطینی پرچم بھی بنے تھے۔ بعض اسٹیکرز میں اسرائیلی پرچم اور نازی نشان بھی بنے ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ بھارتی ریاست راجستھان کا معروف سیاحتی علاقہ پُشکر اسرائیلی شہریوں کا پنسدیدہ مقام ہے جہاں سالانہ 10 ہزار اسرائیلی سیاح آتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق اس وقت بھی تقریباً 2 ہزار اسرائیلی شہری اس علاقے میں مقیم بتائے جاتے ہیں۔
انھی میں سے کسی اسرائیلی نے پولیس میں برطانوی سیاحوں کے فلسطین کے حق اور صیہونی ریاست کی مخالفت میں اسٹکرز چسپاں کرنے کے بارے میں شکایت درج کرائی تھی۔
جس پر راجستھان پولیس نے کہا ہے کہ سیحون لیوس گیبریل ڈی اور انیوشی ایما نے سیاحتی ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی سرگرمی میں حصہ لیا۔
اگرچہ ان کے خلاف کوئی باقاعدہ مقدمہ درج نہیں کیا گیا تاہم پولیس نے تنبیہ کی کہ سیاحتی ویزا پر سیاسی اظہار یا سرگرمی کی اجازت نہیں ہوتی۔
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق برطانوی سیاحوں نے کہا کہ اگر ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو معذرت خواہ ہیں۔
اس کے باوجود ریاستی کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (CID) نے نہ صرف ان کے ویزے منسوخ کردیئے بلکہ “لیو انڈیا” کا نوٹس جاری کیا اور فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی۔



