بسنت کی2دہائی بعد’’محفوظ‘‘واپسی،جشن مگر مکمل ایس او پیز بھی ضروری!
لاہورمیں بسنت کی تاریخ،عروج اورزوال کی کہانی!

لاہور(جانو ڈاٹ پی کے)پنجاب کے دل لاہور میں تقریباً2دہائیوں کے بعدبسنت کی واپسی پر جشن کا ماحول ہے،لاہورکو دلہن کی طرح سجایاگیاہے،شہریوں میں جوش و خروش دیدنی ہے،گڈی،ڈور کی خریداری کیلئے دکانوں پرلائنیں لگی ہیں،ہرسو بسنت کی بہار ہی بہار نظرآتی ہے۔آخری بار پنجاب میں سنہ2007کے دوران بسنت منائی گئی مگر پھر تیز دھار ڈور سمیت پتنگ بازی سے جڑے خطرات کے باعث اس پر لگنے والی پابندی کے بعد نوجوانوں کی ایک پوری نسل بسنت کے تہوار سے محروم ہوگئی۔
کئی سال بعد پنجاب حکومت نے بسنت کو محفوظ بنانے کیلئے کئی قواعد و ضوابط جاری کیے ہیں جن میں صرف لاہور میں بسنت منانے کی اجازت دی گئی ہے لیکن پتنگ کے سائز سے لے کر ڈور تک، سبھی معاملات پر سختی کی گئی ہے جبکہ موٹر سائیکل سواروں پر لازم ہے کہ وہ بائیکس پر حفاظتی راڈ نصب کریں۔
بسنت کا تہوار ہے کیا؟
پاکستان اوربھارت کا پنجاب تاریخی طور پر اپنے صدیوں پرانے بسنت کے تہوارکیلئے جانا جاتا ہے،جو موسمِ بہار کی آمد اور زرعی پیداوار کے جشن کے طور پر منایا جاتا ہے۔
بسنت سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’بہار‘ کے ہیں۔پنجاب،جو دو حصوں میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے،اپنی زرخیز زمین اور ثقافتی ورثے کے سبب بھی مشہور ہے۔
مؤرخین کے مطابق بسنت کا تہوار بھی اسی ثقافت کی عکاسی ہے، جس میں رنگ برنگی پتنگیں اڑانا، کھانا پینا اورمل بیٹھ کرجشن منانا شامل ہے۔
لاہورمیں بسنت کی تاریخ،عروج اورزوال کی کہانی!
لاہورمیں بسنت کو اصل عروج اس وقت ملا جب نائٹ بسنت شروع کی گئی،اس سے پہلے انتظامیہ رات کو آسمان میں روشنی والی لال ٹین چھوڑا کرتی تھی،جس سے لوگوں کو پتا چل جاتا تھا کہ کل صبح بسنت منائی جائے گی۔اس کے بعد لوگ فجر کی نماز کے فوراًبعد چھتوں پر چڑھ جاتے تھے اور سارا دن پتنگیں اڑاتے،کھانے بناتے اور کھاتے تھے۔گھر کی خواتین رنگین کپڑے اور چوڑیاں پہنتی تھیں اور مغرب کے وقت سب نیچے آ جاتے تھے۔
اصل خرابی تب شروع ہوئی جب زیادہ پیسے کمانے کیلئے خونیں ڈوریں بکنا شروع ہوئیں،کئی لوگ اس قاتل ڈور کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہارگئے۔بسنت منانے اور پتنگ بازی پر مکمل پابندی کائٹ فلائنگ ایکٹ2007 کے تحت لگائی گئی تھی۔ اس سے قبل2003میں آخری مرتبہ باضابطہ طور پر بسنت منائی گئی تھی۔1970اور80کی دہائی میں نہ تو خطرناک ڈور ہوا کرتی تھی اور نہ ہی کوئی فائرنگ ہوتی تھی۔ پتنگ بازی کو ایک کھیل سمجھا جاتا تھا۔90کی دہائی میں کیمیکل اوردھاتی ڈوریں آنا شروع ہوئیں جس کے بعد فائرنگ،ون ویلنگ اور دیگر خطرناک حرکتیں شروع ہو گئیں،جن کے نتیجے میں حادثات اور ہلاکتیں بڑھ گئیں۔20سال کی طویل پابندی کے بعد پنجاب حکومت نے صرف لاہور میں بسنت منانے کا اصولی فیصلہ کیا۔6،7،8فروری کو3دن کی عام تعطیل کا بھی اعلان کیا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے ایکس اکاؤنٹ اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’ہمیں دیگر شہروں سے بھی درخواستیں موصول ہوئی ہیں مگر اس بار بسنت کو صرف لاہور میں بطور پائلٹ پراجیکٹ منایا جا رہا ہے۔
ڈی سی لاہورکیپٹن(ر)علی اعجاز نے کے مطابق بسنت صرف ایس او پیز کے مطابق ہی منائی جائے گی اور خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی اور بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔
بسنت منانے کیلئے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے
8فروری تک بسنت کے سامان کی خرید و فروخت کی اجازت ہوگی
موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈ لگانا لازمی قرار
چرخی،دھاتی اور نائیلون ڈور پر مکمل پابندی ہوگی
ڈور کیلئے صرف پنّے کا استعمال ہو گا
بسنت آرڈیننس کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہو گی
مخصوص تعداد سے زائد لوگوں کے چھت پر جمع ہونے کیلئے این او سی لازمی ہوگا
مخصوص سائز کی پتنگ اور گڈّا اڑانے کی اجازت ہے
گڈّا:40انچ چوڑائی،34انچ لمبائی
پتنگ:35انچ چوڑائی،30انچ لمبائی
سامان خریدتے وقت کیو آر کوڈ چیک کرنا اور رسید لینا لازمی ہے۔
رسک والی عمارتوں، پارکس، گرین بیلٹس اور ائیرپورٹ کے اطراف بسنت نہیں منائی جا سکتی۔
پتنگوں پر مذہبی، سیاسی یا قومی نشان نہیں لگائے جا سکتے۔



