اسرائیلی فوج نے مسلم عرب خاتون کو اپنا ترجمان مقرر کردیا

تل ابیب(جانو ڈاٹ پی کے)اسرائیلی فوج نے میجر ایلا واویا(Ella Waweya)کو عربی زبان کی نئی فوجی ترجمان مقرر کرنے کا اعلان کردیا۔مسلم خاتون آفیسر ایلا واویا آنے والے چند ہفتوں میں کرنل اویخائی ادرعی کی جگہ سنبھالیں گی جو گزشتہ20برس سے یہ ذمہ داری نبھا رہے تھے اور اب ریٹائر ہونے والے ہیں۔36سالہ میجر ایلا واویا،جنہیں سوشل میڈیا پر “کیپٹن ایلا” کے نام سے جانا جاتا ہے، اسرائیلی فوج کی صفِ اول کی مسلم عرب خاتون افسران میں شمار ہوتی ہیں۔انہیں اس عہدے پر ترقی دے کر لیفٹیننٹ کرنل بنایا جائے گا۔یاد رہے کہ ایلا واویا وسطی اسرائیل کے عرب قصبے قلنسوہ میں پیدا ہوئیں اور 2013 میں رضاکارانہ طور پر اسرائیلی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ابتدا میں انھوں نے اپنے خاندان سے فوج میں شمولیت کو خفیہ رکھا۔ وہ اس وقت کرنل ادرعی کی نائب کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔وہ سوشل میڈیا پر بھی کافی متحرک ہیں۔ ٹک ٹاک پر5لاکھ اور ایکس پر2لاکھ کے لگ بھگ فالوورز ہیں۔ایلا واویا کی تقرری کو اسرائیلی فوج میں عرب شہریوں، خصوصاً مسلم خواتین، کی بڑھتی نمائندگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔Image

اگرچہ اسرائیل ایک یہودی ریاست ہے لیکن اس کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد عرب شہریوں پر مشتمل ہے، جن میں مسلمان، عیسائی اور دروز شامل ہیں۔

اسرائیلی آئین کے تحت دروز اور چرکاسی برادری کے لیے فوج میں بھرتی ہوکر مقررہ مدت تک خدمات انجام دینا لازمی ہے۔

تاہم مسلمانوں اور عیسائی عربوں کے لیے فوج میں شمولیت رضاکارانہ ہے۔ حالیہ برسوں میں عرب نوجوانوں خصوصاً خواتین کی رضاکارانہ شمولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button