پاکستان سے چین کو گدھے کے گوشت کی برآمدات کا باضابطہ آغاز، ملکی ایکسپورٹ میں نیا اور حیران کن باب

گوادر (جانوڈاٹ پی کے)گوادر نے باضابطہ طور پر پاکستان کی برآمدی منڈی میں قدم رکھ دیا ہے، جہاں بندرگاہی شہر سے چین کے لیے گدھے کے گوشت کی باقاعدہ برآمدات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی لائیو اسٹاک برآمدات کو متنوع بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ہر ماہ تقریباً 50 کنٹینرز پراسیس شدہ گدھے کا گوشت گوادر سے چین برآمد کیا جا رہا ہے، جہاں اس کی طلب روایتی ادویات اور مخصوص کھانوں کی صنعت میں استعمال کے باعث موجود ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ایک منظم برآمداتی فریم ورک کے تحت جاری ہے، جس میں بین الاقوامی صحت، معیار اور حفاظتی ضوابط کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق اس برآمدی اقدام سے نہ صرف قومی سطح پر نئے آمدنی کے ذرائع پیدا ہوں گے بلکہ بلوچستان کی مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ متوقع ہے، جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
فارمنگ، پراسیسنگ، لاجسٹکس اور بندرگاہی خدمات سمیت پورے برآمدی عمل کے دوران مختلف شعبوں میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔
گوادر کی گہری سمندری بندرگاہ اور خطے کے اہم تجارتی راستوں کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک محل وقوع کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان لائیو اسٹاک سیکٹر کی عالمی مسابقت بڑھانے اور مخصوص بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ گدھے کے گوشت کی برآمد ایک مخصوص اور محدود مارکیٹ سے تعلق رکھتی ہے، تاہم یہ اقدام حکومتِ پاکستان کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد روایتی اجناس کے علاوہ برآمداتی بنیاد کو وسعت دینا ہے۔



