بلاول کا وزیرِاعظم بننا محض ایک خواب ہی رہیگا، منتخب نمائندے منشیات فروشوں اور پولیس سے بھتہ وصول کرتے ہیں، قادر مگسی

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی / جانو ڈاٹ پی کے)سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ سندھ اب ایسی کوئی قیمت ادا کرنے کے قابل نہیں رہا کہ بلاول بھٹو وزیرِاعظم بن سکیں، یہ محض ایک خواب ہی رہے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ کے منتخب نمائندے منشیات فروشوں، اضلاع میں تعینات ایس ایس پیز اور ایس ایچ اوز سے ماہانہ بھتہ وصول کرتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مٹھی میں گھنشام مالہی ہاؤس پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر قادر مگسی کا کہنا تھا کہ پاکستان مجموعی طور پر شدید مسائل میں گھرا ہوا ہے، جس کے باعث معیشت کمزور، امن و امان کی صورتحال ابتر، آئین کی حکمرانی ختم اور پارلیمنٹ ایک ربڑ اسٹیمپ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 78 برسوں میں اسٹیبلشمنٹ نے حکمرانوں کو اپنی مرضی کے مطابق کٹھ پتلیوں کی طرح نچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر دور میں سیاستدانوں نے قربانیاں دی ہیں، مگر پارٹی قیادتیں اپنے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں، جس کے نتیجے میں آج بھی ملک شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ ڈاکٹر قادر مگسی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم چند گھنٹوں میں منظور کر لی جاتی ہیں، حالانکہ آئین قوموں کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتا ہے، خصوصاً ان ممالک میں جہاں فیڈریشن اور مختلف زبانیں موجود ہوں، مگر یہاں قابض ٹولوں کے ذریعے آئین کو توڑا جا رہا ہے جس سے ملک کا چلنا مشکل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مادرِ وطن سندھ پاکستان کی ایک مضبوط وفاقی اکائی ہے اور خوش قسمتی سے یہ صوبہ پاکستان بنانے والوں میں شامل رہا، لیکن اس کے باوجود سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی کابینہ میں شامل اتحادی جماعت ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت دہشت گرد تنظیم ہے، جو آئے روز کسی نہ کسی واقعے کو بنیاد بنا کر سندھ کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات کرتی ہے۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ ایم کیو ایم چور اور قاتل جماعت ہے جو 78 برسوں سے جب چاہتی ہے سندھ کی تقسیم کی بات کرتی ہے، مگر انہیں یہ بات ذہن سے نکال دینی چاہیے کہ سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم آپ کی اتحادی جماعت ہے، لہٰذا ان کے وزرا سندھ میں بیٹھ کر اشتعال انگیز نعرے بازی سے باز رہیں، ورنہ ایسا وقت بھی آ سکتا ہے کہ وزیرِاعظم پاکستان کراچی میں قدم رکھنے کے قابل نہ رہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ 6 کروڑ سندھیوں کا وطن ہے اور ہم اسے فلسطین نہیں بننے دیں گے، جہاں معصوم بچوں کی لاشیں بکھری ہوں، گھروں کو مسمار کیا جائے۔ ہم ملک میں انسانیت چاہتے ہیں اور آئین کے مطابق نظامِ حکومت کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں شفاف انتخابات نہیں ہو رہے، دھاندلی کے ذریعے مخصوص افراد کو اقتدار میں لایا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو ان کا حقِ رائے دہی دیا جائے۔ ڈاکٹر قادر مگسی نے الزام لگایا کہ سندھ میں ڈاکو کلچر عام ہو چکا ہے، وزیراعلیٰ بعض علاقوں میں جانے کے قابل نہیں، جبکہ 70 فیصد منشیات عام ہو چکی ہیں جنہیں ایم پی ایز اور ایم این ایز فروغ دے رہے ہیں، جس سے سندھ کی آنے والی نسلیں تباہ ہو رہی ہیں۔
انہوں نے نہری منصوبوں کے معاملے کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ وکلا کو اسلام آباد اور ریاست کے سامنے کھڑا کر کے تحریک کو کمزور کیا گیا۔ اگر یہ تحریک جاری رہتی تو نہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم آتیں اور نہ ہی سندھ کی تقسیم کی بات ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ قوم پرست اتحاد کے حق میں ہیں، مگر بعض قوم پرست وڈیروں کے زیرِ اثر آ چکے ہیں، کوئی پیر پگارا کے پیچھے ہے تو کوئی عمران خان کے، جس کی وجہ سے اتحاد ممکن نہیں ہو پا رہا۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سے اب تک 32 ہزار ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، مگر ترقی کہیں نظر نہیں آتی۔ تھر میں آج بھی ماؤں کے پاس دودھ نہیں، معصوم بچے روز مر رہے ہیں اور خودکشیاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ درندوں پر مبنی نظام ہمیں قبول نہیں۔اس موقع پر حیدر شاهاڻي، گھنشام مالہی سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔



