بدین: پیپلز پارٹی رہنما کیخلاف دیہاتیوں کا احتجاج، زمین پر قبضے اور جھوٹی ایف آئی آر کے الزامات

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)نندو میں پیپلز پارٹی کے ایک رہنما کی جانب سے گاؤں کی زمین پر قبضے کی کوشش، رشوت لے کر ڈکیتی کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرانے کے خلاف دیہاتیوں کا احتجاج تفصیلات کے مطابق گاؤں بڈھو دستی کے رہائشیوں نے پیپلز پارٹی کے رہنما علی نواز دستی کے خلاف احتجاج کے بعد بدین پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان پر زمین پر قبضہ، تشدد اور پولیس سے ملی بھگت کر کے جھوٹا مقدمہ درج کرانے کے الزامات عائد کیے ہیں متاثرہ دیہاتیوں شکیل احمد دستی، ندیم دستی، محمد عرس اور مصطفیٰ دستی نے صحافیوں کو بتایا کہ گاؤں کی تقریباً ڈھائی ایکڑ زمین عوامی فلاح (عیدگاہ یا اسکول) کے لیے وقف ہے، جس پر کسی بھی قسم کی ذاتی تعمیر پر پابندی تھی۔ تاہم گزشتہ دنوں بااثر رہنما علی نواز دستی 20 مسلح افراد کے ہمراہ آ کر زمین پر قبضہ کرنے اور مکان تعمیر کرنے کی کوشش کی جب دیہاتیوں نے روکنے کی کوشش کی تو بااثر افراد نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں محمد موسیٰ زخمی ہو گیا۔ جھگڑے کے دوران علی نواز اپنی گاڑی گاؤں میں چھوڑ گیا، جسے ہم نے بطور امانت محفوظ رکھا اور بعد میں معززین کی موجودگی میں واپس کر دیا متاثرین نے بتایا کہ گاڑی واپس لینے کے بعد علی نواز دستی نے ایس ایچ او کو رشوت دے کر سلیم دستی کے خلاف گاڑی چھیننے (ڈکیتی) کا جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نندو شہر پولیس معاملے کی تحقیقات کرنے کے بجائے بااثر فریق کی حمایت کر رہی ہے، جس کی وجہ سے ہم شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں دیہاتیوں نے آئی جی سندھ اور ایس ایس پی بدین سے مطالبہ کیا کہ درج کی گئی جھوٹی ایف آئی آر ختم کی جائے اور جھوٹا مقدمہ درج کرنے والے پولیس افسر کے خلاف انکوائری کی جائے۔



