کانگو میں قیامت خیز حادثہ، کولٹن کان منہدم، 200 سے زائد افراد ہلاک

کنشاسا (ویب ڈیسک) افریقہ کے معدنی وسائل سے مالا مال مگر غربت کا شکار جمہوریہ کانگو میں ایک ہولناک حادثے کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ صوبہ نارتھ کیوو میں واقع روبایا کولٹن کان کے منہدم ہونے سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے، جس کی تصدیق باغی گروپ کی جانب سے مقرر کردہ صوبائی گورنر کے ترجمان لومومبا کامبیرے مویسا نے کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ کان صوبائی دارالحکومت گوما سے تقریباً 60 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ مٹی کے تودے گرنے کے اس المناک حادثے میں کان کنوں کے ساتھ ساتھ بچے اور بازار میں کام کرنے والی خواتین بھی متاثر ہوئیں۔ بعض افراد کو بروقت نکال لیا گیا تاہم وہ شدید زخمی ہیں۔

ترجمان کے مطابق کم از کم 20 زخمی مختلف طبی مراکز میں زیر علاج ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث زمین کمزور ہو چکی تھی اور جب متاثرین کان کے اندر موجود تھے تو اچانک زمین بیٹھ گئی، جس سے سرنگیں منہدم ہو گئیں۔

نارتھ کیوو کے گورنر ایراستون بہاتی موسانگا، جو ایم 23 باغی گروپ کی جانب سے مقرر کیے گئے ہیں، نے بتایا کہ متعدد لاشیں نکال لی گئی ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد تاحال سامنے نہیں آ سکی، البتہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ایک صوبائی مشیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی نے آزاد ذرائع سے تعداد کی تصدیق نہ ہونے کی نشاندہی کی ہے۔

اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے روبایا کے ایک روایتی کان کن فرانک بولنگو نے بتایا کہ خدشہ ہے کہ اب بھی متعدد افراد کان کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق بارش کے بعد اچانک مٹی کا تودہ گرا، جس سے کئی افراد بہہ گئے، کچھ زندہ دفن ہو گئے جبکہ کئی سرنگوں میں محصور ہیں۔

روبایا کولٹن کان دنیا کی تقریباً 15 فیصد کولٹن پیداوار فراہم کرتی ہے، جس سے ٹینٹالم تیار کیا جاتا ہے۔ یہ دھات موبائل فونز، کمپیوٹرز، خلائی آلات اور گیس ٹربائنز کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔

یہ کان 2024 سے روانڈا کی حمایت یافتہ ایم 23 باغی گروپ کے کنٹرول میں ہے۔ اس سے قبل بھی یہ کان مختلف اوقات میں ڈی آر کانگو کی حکومت اور دیگر باغی گروپوں کے قبضے میں رہ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایم 23 باغی اس کان کے وسائل کو لوٹ کر اپنی بغاوت کے لیے فنڈز فراہم کر رہے ہیں، جس کی روانڈا تردید کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بے پناہ معدنی دولت کے باوجود جمہوریہ کانگو کی 70 فیصد سے زائد آبادی روزانہ 2.15 ڈالر سے کم آمدن پر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

مزید خبریں

Back to top button