غلام احمد بلور نے پارلیمانی سیاست کو خیربادکہہ دیا

پشاور(جانوڈاٹ پی کے)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینیئر   رہنما غلام  احمد  بلور   نے  پارلیمانی  سیاست کو خیرباد کہتے  ہوئے  پشاور  سے  اسلام آباد  منتقل  ہونےکا فیصلہ کرلیا۔

سابق وفاقی وزیر اورعوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما غلام احمد بلور نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب ایک چلا ہوا کارتوس ہیں، نہ وہ قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور نہ ہی پارٹی میں کسی عہدے پر فائز،  اس لیے پشاور چھوڑنے سے قبل میڈیا کے ذریعے اپنا مؤقف قوم کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ وہ ایک مضبوط پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں اور اب اے این پی کو فیصلہ کرنا ہے کہ ان کی نشست پر ٹکٹ کس کو دیا جائے، ایسے لوگ جو نہ جھک سکتے ہیں اور نہ بک سکتے ہیں، آج پارلیمنٹ میں  ان کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی، مجھے تین بار  الیکشن میں ہروایا گیا، اب میری ضرورت نہیں رہی اسی لیے پشاور چھوڑ رہا ہوں، کم از کم میری عمر کا لحاظ تو رکھا جانا چاہیے تھا۔

غلام احمد بلور نے کہا کہ پشاور ان کا گھر ہے لیکن حالات نے انہیں مجبوری میں یہاں سے جانے پر مجبور کر دیا ہے تاہم ان کی تدفین پشاور میں ہی ہوگی، وہ باچا خان اور ولی خان کے مرنے کے بعد بھی ساتھی ہیں، وہ دو جنازے اٹھا چکے ہیں اور ان پر دو بار قاتلانہ حملے بھی ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،  پاکستان کے شاہینوں  نے دشمن کو بھرپور جواب دیا، تاہم ملک اس وقت مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی جیسے سنگین مسائل کا شکار ہے، بھارت کو شکست دی گئی لیکن وہ آج معاشی طور پر مستحکم ہے جبکہ آمریت نے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔

غلام احمد بلور نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ٹرمپ نے پاکستان کو عزت کیوں دی، ممکن ہے امریکہ ایران پر حملہ کرنا چاہتا ہو۔

مزید خبریں

Back to top button