ٹنڈوباگو میں مستحق خواتین کے سرکاری وظیفے سے غیر قانونی کٹوتیاں،اعلی حکام خاموش، شہریوں کاسخت کارروائی کا مطالبہ

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے) مستحق خواتین کے وظیفے سے مبینہ غیر قانونی کٹوتیاں، انتظامیہ کی خاموشی پر سوالات ٹنڈوباگو شہر میں مستحق اور غریب خواتین کو دیے جانے والے سرکاری وظیفے کی رقم سے سرِعام ناجائز کٹوتیوں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس پر شہری حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ذرائع کے مطابق مختلف محلوں میں وظیفہ حاصل کرنے والی خواتین نے شکایت کی ہے کہ انہیں مقررہ رقم کے بجائے کم رقم دی جا رہی ہے، جبکہ باقی رقم مختلف بہانوں سے کاٹ لی جاتی ہے متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ اگر وہ کٹوتی کے بارے میں سوال کریں تو انہیں آئندہ وظیفہ بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں متاثرہ خواتین کے مطابق یہ کٹوتیاں بعض مقامی اہلکاروں اور ایجنٹوں کی ملی بھگت سے کی جا رہی ہیں، جو ہر قسط پر مقررہ حصہ وصول کرتے ہیں۔ خواتین کا کہنا ہے کہ یہ وظیفہ ان کے گھریلو اخراجات اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کا واحد سہارا ہے، مگر کٹوتیوں کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے دوسری جانب سماجی حلقوں اور شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب یہ عمل کھلے عام جاری ہے تو متعلقہ انتظامیہ اور نگرانی کرنے والے ادارے خاموش کیوں ہیں؟ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اس سنگین معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری نوٹس نہ لیا گیا تو یہ بدعنوانی غریب خواتین کے ساتھ کھلی ناانصافی کے مترادف ہوگی۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ بدین سمیت ٹنڈوباگو  میں وظیفہ نظام کی تحقیقات کروائیں تاکہ مستحق خواتین کو ان کا پورا حق مل سکے واضح رہے کہ سرکاری وظیفہ پروگرام کا مقصد غریب اور نادار خواتین کو مالی سہارا فراہم کرنا ہے، مگر اگر اسی رقم میں غیر قانونی کٹوتیاں کی جائیں تو اس منصوبے کے اصل مقصد پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے

مزید خبریں

Back to top button