جنوبی کوریا:سابق خاتونِ اول کو رشوت کے جرم میں 1 سال 8 ماہ قید کی سزا

جنوبی کوریا (جانوڈاٹ پی کے)جنوبی کوریا کی عدالت نے ملک کی سابق خاتونِ اول کم کیون ہی کو رشوت لینے اور بدعنوانی کے الزامات میں ایک سال اور 8 ماہ قید کی سزا سنائی ہے.

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خاتونِ اوّل کم کیون ہی نے یونفیکیشن چرچ نامی مذہبی گروپ کے عہدیداروں سے عمدہ تحائف اور قیمتی اشیاء بطور رشوت لی تھیں۔

جن میں لاکھوں ڈالر مالیت کا ایک چینل بیگ اور گراف ہیرے کا ہار بھی شامل ہے جس کے بدلے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے یونیفیکشن چرچ کو فائدہ پہنچایا گیا۔

سابق خاتونِ اوّل پر اسٹاک قیمتوں میں ہیرا پھیری اور سیاسی فنڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات بھی لگائے گئے تھے لیکن عدالت نے ناکافی ثبوت کے باعث انھیں بری کردیا تھا۔

پراسیکیوٹرز نے عدالت سے خاتون اوّل کے لیے 15 سال قید اور بھاری جرمانے کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے انہیں صرف رشوت سے متعلق جرم پر ہی قصوروار ٹھہرایا اور سزا میں رعایت دی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ کم کیون ہی نے اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور ذاتی مفادات کے لیے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔

جج نے واضح کیا کہ صدر کے قریب رہنے والی شخصیت کو اپنی عزت، ساکھ اور عوامی کردار کا خاص خیال رکھنا چاہیے مگر انہوں نے اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔

کم کیون ہی نے عدالت میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا تاہم انھوں نے عوام سے معذرت بھی کی کہ ان کی وجہ سے لوگوں کو تشویش کا سامنا کرنا پڑا۔

خاتون اوّل کے وکلا نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد اپیل کی درخواست کریں گے۔

یاد رہے کہ کم کیون ہی کے شوہر یون سُک یول جنوبی کوریا کے سابق صدر ہیں جو 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے اور دیگر سنگین الزامات کے باعث گرفتار ہیں۔

ایک کیس میں سابق صدر یون سک یول کو پانچ سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ ایک الگ مقدمے میں ممکنہ عمر قید یا سزائے موت کے لیے بھی سامنا کر رہے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button