سندھ میں سگ گزیدگی اور ریبیز کا بڑھتا خطرہ!ایک اور بچی دم توڑ گئی

کراچی(جانو ڈاٹ پی کے)سندھ میں سگ گزیدگی کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حالیہ افسوسناک واقعے میں کتے کے کاٹنے سے ریبیز میں مبتلا 8سالہ بچی جانبر نہ ہو سکی، جس نے صوبے میں صحت کے نظام اور حفاظتی اقدامات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مذکورہ بچی کو ڈیڑھ ماہ قبل ضلع سانگھڑ کے علاقے جھول میں کتے نے کاٹا تھا۔ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ بچی کو ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین درست انداز میں اور مکمل نہیں لگائی گئی، جس کے باعث اس کی حالت بگڑتی چلی گئی۔ متاثرہ بچی کو گزشتہ روز کراچی کے انڈس اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اسے پیلئی ایٹو کیئر پر رکھا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکی۔

جاں بحق ہونے والی بچی کی آبائی گاؤں ولی محمد کیریو میں تدفین کر دی گئی۔ ورثا نے بتایا کہ اسی واقعے میں ایک اور نو سالہ بچہ بھی کتے کے کاٹنے سے متاثر ہوا تھا، جو اس وقت کراچی میں زیرِ علاج ہے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور درست علاج میسر آتا تو شاید قیمتی جان بچائی جا سکتی تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف رواں ماہ سندھ بھر میں کتے کے کاٹنے کے تین ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ گزشتہ سال سندھ میں ریبیز کے باعث 21 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ سال 2025 کے دوران صوبے بھر میں 60 ہزار سے زائد سگ گزیدگی کے کیسز سامنے آئے تھے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ریبیز ایک مہلک مگر قابلِ بچاؤ مرض ہے، بشرطیکہ کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد زخم کو اچھی طرح صاف کر کے مکمل ویکسینیشن کروائی جائے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے، ویکسین کی دستیابی یقینی بنانے اور دیہی علاقوں میں آگاہی مہم شروع کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button