تھرپارکر کے775آر او پلانٹ آپریٹرز کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے اور ناجائز کٹوتیوں کیخلاف سراپا احتجاج

مٹھی(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)ضلع تھرپارکر کے 775آر او پلانٹ آپریٹرز کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے اور ناجائز کٹوتیوں کیخلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ پبلک ہیلتھ آفس تھرپارکر کے سامنے عرفان بجیر، بابو مہران پوٹو، قلب الدین، ستار بجیر، کویر میگھواڑ، خدابخش سمیت دیگر کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور دھرنا دیا گیا۔

اس موقع پر مظاہرین نے پبلک ہیلتھ کے خلاف زوردار نعرے بازی کی۔ مظاہرین سے مذاکرات کے لیے متعلقہ محکمے کے ایگزیکٹو انجینئر (ایکسین) موقع پر پہنچے اور صحافیوں کے سامنے بات کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ جلد تنخواہیں ادا کر دی جائیں گی۔ تاہم ایکسین صحافیوں کے سوالات کے تسلی بخش جواب نہ دے سکے اور ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتیوں سے لاعلمی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں کسی ملازم نے آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی انہیں کوئی اطلاع ہے۔

دوسری جانب آر او پلانٹ آپریٹرز عرفان بجیر، کویر میگھواڑ، خدابخش اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع تھرپارکر کے آر او پلانٹ آپریٹرز کو بروقت تنخواہیں نہیں دی جاتیں اور چار ماہ کی بقایا تنخواہیں بھی ادا نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں بھی، سندھ حکومت کے ڈیلی ویجز ملازمین کے لیے 40 ہزار روپے تنخواہ کے اعلان کے باوجود، ضلع تھرپارکر میں غریب آر او پلانٹ آپریٹرز کو طویل عرصے سے صرف 25 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں، وہ بھی تین ماہ بعد اور بار بار احتجاج کے نتیجے میں۔ مزید یہ کہ بعض آر او پلانٹ آپریٹرز کی تنخواہوں میں ایس ڈی او اور کلرکس کی ملی بھگت سے غیرقانونی اور ناجائز کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔

آر او پلانٹ آپریٹرز نے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں، بقایا تنخواہیں جاری کی جائیں اور انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا اور اگر مسائل حل نہ ہوئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

بعد ازاں تسلی بخش یقین دہانی کرائے جانے پر آر او پلانٹ آپریٹرز نے پبلک ہیلتھ آفس کے سامنے دیا گیا دھرنا ختم کر دیا۔

مزید خبریں

Back to top button