پنجاب کے کچے علاقوں میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، بدنام زمانہ ڈاکو عرفان عباسی ہلاک، اغوا شدگان بازیاب

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)پنجاب کے کچے علاقوں میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ڈاکوؤں کے خلاف بڑا ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے، آپریشن کے دوران سرجیکل سٹرائیکس اور جدید ڈرونز کے ذریعے کارروائیاں کی گئیں، جس میں بدنام زمانہ ڈاکو عرفان عباسی ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، آپریشن کی نگرانی نگرانی ڈی پی او عرفان سموں کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس آپریشن کا مقصد کچے کے علاقوں میں دہشت اور جرائم کی فضا کو ختم کرنا اور عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

کریک ڈاؤن اور ٹھکانوں کا نشانہ بنایا گیا

راجن پور، رحیم یار خان اور دیگر کچے علاقوں میں ڈاکوؤں کے ٹھکانوں، بنکرز اور خفیہ کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے، جس سے ڈاکوؤں پر دباؤ بڑھا۔

سرنڈر اور گرفتاریوں کی اطلاعات

پولیس کے مؤثر آپریشن کے سبب متعدد ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے۔ رپورٹ کے مطابق صرف راجن پور میں 11 ڈاکوؤں نے خود کو پولیس کے حوالے کیا، اور علاقے میں مزید سرنڈر ہونے کی اطلاعات ہیں۔

بی بی سی اردو کے مطابق عطااللہ پٹ عمرانی، ڈاڈو بنگیانی عرف مچھ کٹا، گورا عمرانی اور وقار عرف وقاری سمیت کچّے کے ان ڈاکوؤں کے بارے میں بتا رہے تھے جنھوں نے حال ہی میں اپنے 41 ساتھیوں سمیت ڈی پی او راجن پور محمد عمران کے سامنے سرینڈر کیا ہے۔

یہ کچّے کے وہ ڈاکو ہیں جن کی سروں کی قیمت پنجاب حکومت نے ایک، ایک کروڑ روپے مقرر کر رکھی تھی۔

یہ افراد سندھ اور پنجاب کے کچّے کے علاقوں میں خوف کی ایک علامت سمجھے جاتے تھے اور ان پر اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، قتل، راہزنی اور دہشت گردی جیسی سینکڑوں وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔

اغوا شدگان کی بازیابی

پولیس نے کچے سے اغوا کیے گئے شہریوں کو محفوظ طریقے سے بازیاب کروایا۔ ایک حالیہ کارروائی میں چھ افراد ڈاکوؤں کے چنگل سے آزاد ہوئے۔

مشہور مجرموں کا سرنڈر

بعض انتہائی مطلوب ڈاکو جن پر بھاری انعامات رکھے گئے تھے  نے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈالے اور گرفتاری دی، جو آپریشن کی پیش رفت کی علامت ہے۔

مشترکہ کارروائی

پنجاب اور سندھ پولیس، رینجرز نے رحیم یار خان، راجن پور اور مشرقی کچے میں تقریباً 1,700 اہلکار، ڈرونز، بکتر بند گاڑیاں اور جدید آلات کے ساتھ کارروائی کی۔

قانون کا نفاذ اور عوام کی حفاظت

آپریشن کا مقصد صرف ڈاکوؤں کو گرفتار کرنا یا ختم کرنا نہیں بلکہ قانون کا نفاذ اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا بھی ہے۔

شدید فائرنگ کے تبادلے

متعدد مقامات پر شدید فائرنگ کے تبادلے ہوئے، جس میں بعض ڈاکو زخمی یا ہلاک ہوئے اور ان کے چھپنے کے مقامات تباہ کر دیے گئے۔

ڈاکو حکومت سے علاقے میں سکول اور ہسپتال مانگ رہے ہیں

کبھی ان ڈاکوؤں کے ہاتھوں میں جدید اسلحہ جن میں اینٹی ایئر کرافٹ گنز، ہیوی مشین گنز، سمال مشین گنز، جی تھری گنز اور کلاشنکوف جیسے ہتھیار ہوا کرتے تھے وہ آج امن کی باتیں کررہے تھے۔‘

 کل تک لوگوں کو اغوا کرنے والے ڈاکو آج حکومت پنجاب سے اپنے علاقوں کے لیے سکول اور ہسپتال مانگ رہے ہیں۔

یہ کارروائی کچے کے علاقوں میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کو محفوظ بنانے کے لیے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی تسلسل اور عزم کی نمائندگی کرتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button